مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 323
By Maulana Wahiduddin Khan
لو مة لائم ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء، والله واسع عليم (المائدہ ۵۴) اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسے لوگ لے آئے گا جن سے اللہ کو محبت ہوگی اور جن کو اللہ سے محبت ہوگی۔ وہ اہل ایمان پر نرم ہوں گے، منکرين پر سخت ہوں گے۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کا اندیشہ نہیں کریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔ يسئلونك عن الشهر الحرام قتال فيه، قل قتال فيه كبير، وصد عن سبيل الله وكفر به والمسجد الحرام، واخراج أهله منه اكبر عند الله، والفتنة اكبر من القتل، ولا يزالون يقاتلونكم حتى يردوكم عن دينكم ان استطاعوا، ومن يرتدد منكم عن دينه فيمت و هو كافر فاولئك حبطت أعمالهم في الدنيا والآخرة، واولئك اصحاب النار هم فيها خالدون (البقرۃ ۲۱۴) لوگ تم سے شہر حرام میں لڑائی کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو، اس میں لڑائی بڑا گناہ ہے اور روکنا اللہ کی راہ سے، اور اس کا انکار کرنا، اور مسجد حرام سے روکنا، اور نکال دینا اس سے لوگوں کو، اس سے بھی بڑا گناہ ہے اللہ کے نزدیک۔ اور فتنہ زیادہ بڑا گناہ ہے قتل سے۔ اور یہ تمہارے ساتھ جنگ جاری رکھیں گے یہاں تک کہ پھیر دیں تم کو تمہارے دین سے اگر مقدور پائیں۔ اور جو کوئی تم میں پھرے گا اپنے دین سے اور وہ اسی حال میں مر جائے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو جائیں گے اور وہ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان آیتوں میں صراحتاً دین بدلنے والوں اور ارتداد اختیار کرنے والوں کا ذکر ہے۔ مگر اس جرم کے لیے ان کی کوئی دنیوی سزا نہیں بتائی گئی ہے۔ صرف اخروی سزا کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ اس آیت میں فیمت کا لفظ بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ان کے لیے حالات میں طبعی موت کا امکان تسلیم کر رہا ہے، نہ یہ کہ قتل ہو کر ان کے مرنے کی خبر دے رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader