Urdu book · حکمتِ اسلام

مرتد اور ارتداد

Urdu book, p. 324

By Maulana Wahiduddin Khan

جو لوگ ارتداد کی سزا قتل قرار دیتے ہیں ، وہ قرآن کی حسب ذیل آیت سے اس کا حکم اخذ کرتے ہیں : قل للمخلفين من الاعراب ستدعون الى قوم اولی باس شديد تقاتلونهم او يسلمون فان تطيعوا يوتكم الله اجرا حسناً وان تتولوا كما توليتم من قبل يعذبكم عذابا اليما (الفتح (۱۶) کہہ دو پیچھے رہنے والے اعراب سے کہ عنقریب تم ایسے لوگوں کی طرف لائے جاؤ گے جو سخت لڑنے والے ہوں گے ، تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ پس اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو اچھا اجر دے گا اور اگر پھر جاؤ گے جیسا پھر گئے تھے پہلی بار، تو وہ تم کو دردناک سزا دے گا۔ اس آیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں اس جہاد کی پیشین گوئی ہے جو حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے زمانہ خلافت میں مرتدین (مانعین زکوٰۃ) کے خلاف کیا تھا۔ مگر اس آیت میں صریح طور پر لڑنے والوں کا ذکر ہے ، نہ کہ مذہب بدلنے والوں کا۔ بالفاظ دیگر، یہ آیت حکومتِ اسلامی کے خلاف جارح باغیوں کا حکم بتا رہی ہے ، نہ کہ صرف عقیدہ تبدیل کرنے والوں کا حکم۔ ایسی حالت میں اس آیت سے مرتدین کا حکم نکالنا محض استنباطی چیز ہے۔ کیوں کہ آیت میں مرتدین کا صراحتاً ذکر نہیں۔ مزید یہ کہ اس بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ اس آیت میں کون سا گروہ مراد ہے۔ آیت میں جہاں تک تقاتلونهم او يسلمون کے فقرہ کا تعلق ہے ، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ متفقہ طور پر اس کا حسب ذیل مطلب بتایا گیا ہے : اما المقاتلة او الاسلام لا ثالث لهما لا ينقطع القتال بغیر الاسلام (روح المعانی) یعنی جنگ یا اسلام ۔ ان دو کے علاوہ تیسری کوئی صورت نہیں۔ جنگ نہیں رکے گی جب تک وہ اسلام قبول نہ کریں۔ مگر اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کون سا گروہ ہے جس کے بارہ میں یہ سخت حکم دیا گیا ہے ۔ ابن المنذر اور طبرانی نے زہری سے روایت کیا ہے کہ اس سے مراد بنو حنیفہ اور اہل یمامہ ہیں جنہوں نے مسیلمہ کا ساتھ دیا۔ عطار اور مجاہد سے ابن جریر اور بیہقی نے روایت کیا ہے کہ اس سے مراد فارس کے لوگ ہیں۔ عکرمہ اور ابن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن اور وہ لوگ ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page