مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
جنہوں نے حنین میں آپ سے جنگ کی۔ قتادہ سے ایک اور قول مردی ہے کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف کے لوگ ہیں۔ کعب کا قول ہے کہ یہ اہل روم کے بارہ میں ہے جن کی طرف آپ تبوک کے غزوہ پر نکلے۔ ایک اور قول ہے کہ اس سے مراد اعراب فارس اور اکراد عجم ہیں (روح المعانی، الجامع لاحکام القرآن) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں: للعلماء اختلاف في كونهم في الاصل عربا او غيرهم فقيل ليسوا من العرب وقيل منهم (علماء کا اس معاملہ میں اختلاف ہے کہ اس آیت میں عرب مراد ہیں یا ان کے علاوہ قومیں مراد ہیں۔ پس کہا گیا ہے کہ یہ غیر عرب ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ عرب ہیں۔ چوں کہ اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تفسیر مروی نہیں، اس لیے مختلف اقوال کی تطبیق اس طرح کی گئی ہے کہ یہ اقوال اصل آیت کی تفسیر نہیں ہیں بلکہ وہ اس کے مختلف انطباقات ہیں۔ صاحب روح المعانی مختلف اقوال کو تفصیل سے بیان کرنے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں: وقال ابو حيان الذي أقوله ان هذه الاقوال تمثيلات من قاتلهما لا تعيين القوم (ابو حیان نے کہا ہے، اور اسی سے مجھے بھی اتفاق ہے، کہ یہ تمام اقوال ان لوگوں کی مثالیں ہیں جن سے جنگ ہوئی۔ یہ کسی ایک گروہ کی تعیین نہیں ہے)۔ امام رازی نے الی قوم اولی بأس شدید کے حسب ذیل مصداقات جمع کیے ہیں: ۱۔ ہوازن و ثقیف جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کی۔ ۲۔ فارس وروم جن سے حضرت عمر نے جنگ کی۔ ۳۔ بنو حنیفہ جنہوں نے مسیلمہ کا ساتھ دیا اور حضرت ابوبکر نے ان سے جنگ کی۔ امام رازی لمبی بحث کے بعد لکھتے ہیں: و اقوی الوجوه هو ان الدعاء كان من النبي صلی اللہ علیہ وسلم (زیادہ قوی پہلو یہ ہے کہ اس آیت میں جس پکار کا ذکر ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار تھی۔ (یعنی اس سے مراد کوئی ایسی قوم ہے جس سے خود رسول نے جنگ کی ہو) اوپر کی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے سلسلے میں خود یہ امر ثابت شدہ نہیں ہے کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader