مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 326
By Maulana Wahiduddin Khan
”مرتدین“ کے بارے میں ہے۔ ایسی حالت میں اس سے مرتدین کی سزا کا حکم نکالنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سورہ فتح کی مذکورہ آیت سے قتل مرتد کا حکم ثابت نہیں ہوتا۔ نہ اس آیت میں ایسا کوئی لفظ ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ یہ آیت مرتدین کے بارہ میں ہے۔ بالفرض اگر مان لیا جائے کہ سورہ فتح کی مذکورہ بالا آیت خلافت ابو بکر کے زمانہ میں ہونے والے مرتدین کے خلاف جہاد کی پیشین گوئی تھی، جب بھی اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ مجرد ارتداد کی سزا قتل ہے۔ کیوں کہ وہ لوگ جن کے خلاف خلیفہ اول نے جنگ کی تھی وہ عام معنوں میں ”مرتد“ نہیں تھے۔ یعنی انہوں نے اسلام اور کلمۂ اسلام کو ترک نہیں کیا تھا۔ انہوں نے صرف ”منع زکوٰۃ“ کا فعل کیا تھا۔ وہ صراحتاً کہتے تھے کہ ہم اسلام کو مانتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اققرار کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ خود زکوٰۃ کی فرضیت سے بھی انہیں انکار نہ تھا۔ وہ صرف یہ کہتے تھے کہ ہم حکومت مدینہ کے عمّال کو اپنی زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ گویا کہ یہ مانعین زکوٰۃ ، حکومت کی اطاعت نہ کرنے کے مجرم تھے نہ کہ اسلام کو ترک کر دینے کے۔ یہ بغاوت کا معاملہ تھا نہ کہ ارتداد (ترک اسلام) کا معاملہ۔ خود خلیفہ ابو بکر نے ان کے خلاف کارروائی منع زکوٰۃ کی بنیاد پر کی تھی نہ کہ ارتداد کی بنیاد پر۔ حدیث سے استدلال جہاں تک قرآن کا تعلق ہے، یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ قرآن میں ایسی کوئی آیت موجود نہیں ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ ارتداد کی سزا قتل ہے۔ البتہ البخاری اور التر مذی اور دوسرے محدثین نے اس سلسلے میں ایک روایت نقل کی ہے۔ امام مالک نے موطا میں زید بن اسلم سے ایک روایت ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے: مالک عن زید بن اسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من غير دينه فاضربوا عنقه (امام مالک نے زید بن اسلم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان اپنے دین کو بدل ڈالے اس کی گردن مار دو)۔ عبداللہ بن عباس کی روایت میں من بدل دینه فاقتلوه کے الفاظ ہیں۔ امام سرخسی نے اسی کو نقل کیا ہے۔ اب اس حدیث پر غور کیجئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader