مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 327
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حدیث کے سلسلے میں ہم کہیں گے کہ ہر دوسرے عمل کی طرح تبدیلِ دین یا تغیرِ دین کے دو درجے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی ذاتی طور پر محض اپنے عقیدے کو بدل لے۔ دوسرے یہ کہ وہ دین کے محاذ سے نکل کر کفر کے محاذ میں چلا جائے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ اس حدیث میں دوسری نوعیت کے جرم کا ذکر ہے۔ اس میں مجرد اعتقادی ارتداد کا حکم نہیں بتایا گیا بلکہ یہاں اس ارتداد کا ذکر ہے جو موجودہ اصطلاح میں ریاستی بغاوت (treason) کے درجہ کو پہنچ گیا ہو۔ مذکورہ بالا حدیث ارتداد کی سزا کے بارے میں اگر اتنی قطعی ہوتی تو اس بارہ میں فقہاء کی دو رائےیں نہ ہوتیں۔ مگر علامہ شعرانی کے الفاظ میں ، اس بارہ میں ’’نرم اور سخت‘‘ دو قسم کے اقوال پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلاف خود بتاتا ہے کہ یہ حدیث سزائے موت کے بارے میں اتنی قطعی نہیں ہے جیسا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں۔ علامہ ابوالحسن الماوردی نے اپنی کتاب الأحكام السلطانيه میں مذکورہ بالا حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تبدیلیٔ دین یا ارتداد کے واقعہ کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ اسلامی سلطنت (دار الاسلام) میں کچھ افراد انفرادی طور پر مرتد ہو جائیں۔ وہ کسی مستقل سیاسی ہیئت یا تنظیمی ڈھانچہ سے وابستہ نہ ہوئے ہوں، جوان کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک فعال گروہ کی حیثیت دے دے۔ ایسی صورت میں ان سے قتال کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ وہ اقتدارِ اسلامی کی دسترس میں ہیں ۔ بلکہ ان کے ارتداد کا سبب معلوم کیا جائے گا۔ اگر وہ دین میں کسی شبہ کا اظہار کریں تو دلائل کے ذریعہ اس کو دور کیا جائے گا تا کہ ان پر حق واضح ہوجائے۔ اور ان کو باطل سے توبہ کرنے پر آمادہ کیا جائے گا (اما ان يكونوا فی دار الاسلام شذاذا أو أفرادا لم يتحيزوا ا دار يتميزون بها عن المسلمين، فلا حاجة بنا إلى قتالهم، لدخولهم تحت القدرة، ويكشف عن سبب ردّتهم، فإذا ذكروا شبهة فى الدين، أو ضحت لهم بالحجج والأدلة، حتى يتبين لهم الحق، وأخذوا بالتوبة مما دخلوا فيه من الباطل) دوسری حالت وہ ہے جب کہ وہ کسی مستقل سیاسی ہیئت یا تنظیمی ڈھانچہ سے وابستہ ہو کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader