Urdu book · حکمتِ اسلام

مرتد اور ارتداد

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں سے الگ ایک طاقتور گروہ بن جائیں ۔ ارتداد کی اس صورت میں ان سے قتال کیا جائے گا۔ مگر اس سے پہلے ان سے اسلام پر مناظرہ کیا جائے گا اور اس کے حق میں دلائل واضح کیے جائیں گے۔ (الحالة الثانية أن ينحازوا بدار يتفردون بها عن المسلمين، حتى يصيروا ممتنعين، فيجب قتالهم على الردة، بعد مناظرتهم على الاسلام وايضاح دلائله) الماوردی کی اس تصریح سے اس قیاس کو مزید تقویت پہنچتی ہے کہ حدیث میں مرتد کو قتل کرنے یا اس سے قتال کرنے کا جو حکم ہے، وہ مطلق نہیں بلکہ اس صورت حال کے ساتھ مخصوص ہے جب کہ ارتداد مسلم ریاست کے خلاف بغاوت کے ہم معنی بن جائے۔ صاحب بدایۃ المجہتد لکھتے ہیں: المرتد اذا ظفر بہ قبل ان يحارب ....... اور مرتد پر جب غلبہ پالیا جائے اس سے پہلے کہ وہ محاربہ کرے ......) یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ فقہاء جب ارتداد کا حکم بیان کر رہے تھے تو اس کو وہ ایک علیحدہ واقعہ کے طور پر نہیں دیکھ رہے تھے بلکہ اس کو وہ محاربت کے مسئلہ سے مربوط سمجھتے تھے۔ اس سے یہ قیاس ہوتا ہے کہ ارتداد پر جن فقہاء نے قتل کا حکم لگایا ہے وہ محاربت کے پس منظر میں لگایا ہے نہ کہ مطلق طور پر۔ یعنی مرتد سے اُن کی مراد مرتد محارب ہے نہ کہ سادہ طور پر صرف مرتد۔ اور یہ واقعہ ہے کہ جس قول رسول سے انہوں نے یہ حکم مستنبط کیا ہے، اس قول کے وقت مرتد کے یہی معنی تھے۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں مرتد اور باغی کے لیے الگ الگ الفاظ مستعمل نہیں ہوتے تھے، جیسا کہ آج ہے۔ اس قیاس کے حق میں دوسرا قرینہ یہ ہے کہ فقہا میں ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ مرتدہ (مرتد عورت) کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ صرف قید کر دیا جائے گا۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ عورت صنف ضعیف ہے۔ اس سے محارب بننے کا خطرہ نہیں۔ تاہم حالت جنگ میں وہ جاسوسی وغیرہ کے ذریعہ دشمن کی مدد کر سکتی ہے۔ اس لیے اس کو قید کرنے کا حکم دیا گیا۔ اگر اس حکمت کو تسلیم نہ کیا جائے تو ایک ہی جرم کی سزا عورت اور مرد کے لیے اتنی مختلف کیوں مقرر کی گئی۔ ابن حجر نے حدیث کی تشریح میں جو کچھ لکھا ہے، اس میں سے ایک فقرہ یہ ہے: و استدل به

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page