مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 329
By Maulana Wahiduddin Khan
عن قتل المرتدة كالمسرتد وخصه الحنفية بالذكر وتمسكوا بحديث النهى عن قتل النساء وحمل الجمهور النهي على الكافرة الاصلية اذا لم تباشر القتال ولا القتل لقوله في بعض طرق حديث النهي عن قتل النساء لما رأى المرأة مقتولة ما كانت هذه لتقاتل ثم نهى عن قتل النساء (اور اس سے مرتده کے قتل پر استدلال کیا گیا ہے مرتدی طرح، اور حنفیہ نے اس حکم کو مرتد مرد کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ ان کے استدلال کی بنیاد وہ حدیث ہے جس میں عورت کے قتل کو منع کیا گیا ہے۔ اور جمہور نے اس ممانعت کو اصل منکر عورت سے متعلق کیا ہے جب کہ وہ لڑائی میں شریک نہ ہورہی ہو۔ جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ جب آپ نے مقتول عورت دیکھی جو جنگ میں شریک نہ تھی تو آپ نے عورت کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ حدیث: من بدل دینه فاقتلوه کے راوی عبداللہ بن عباس ہیں۔ (ملاحظہ ہو صحیح البخاری، رقم الحدیث ۳۰۱۷، نیز رقم الحدیث ٦٩٢٣) ۔ یہ حدیث انہوں نے مدنی دور میں ایک جنگ کے موقع پر بیان کی۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اعتقادی ارتداد کے واقعات مکی دور اور مدنی دور دونوں ہی زمانوں میں پیش آئے۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول سامنے نہیں آیا، وہ صرف مدنی دور میں سامنے آیا، جب کہ اسلام ایک ریاست کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ارتداد کی سزا کا تعلق مجرد عقیدہ یا مذہب کی تبدیلی سے نہیں ہے بلکہ اُس کا تعلق ریاستی دور کے معاملات سے ہے۔ چناں چہ کچھ علماء نے اس حکم کو حکم الحربي کے معنی میں لیا ہے۔ (فتح الباری لابن حجر، جلد ۱۲، صفحه ۲۸۱) اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ارتداد کا تعلق مجرد اعتقادی ارتداد سے نہیں ہے بلکہ اُس کا تعلق اُن افراد سے ہے جو اسلامی ریاست کے خلاف برسر جنگ ہوں ۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نبوت ملنے کے بعد ۱۳ سال تک مکہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے ۔ وہاں اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔ سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے تیرہ سالہ دور میں بھی ارتداد کے بعض واقعات پیش آئے ۔ مثلاً مکی دور میں اہل ایمان کا ایک قافلہ مکہ کو چھوڑ کر پڑوسی ملک حبش میں چلا گیا۔ یہ لوگ دو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader