مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 330
By Maulana Wahiduddin Khan
قسطوں میں وہاں گئے تھے اور ان کی مجموعی تعداد تقریباً ایک سو تھی۔ ان مسلمانوں میں ایک وہ تھے جن کا نام عبید اللہ بن جحش تھا۔ انہوں نے رسول اللہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا اور پھر مشرکین مکہ کی ایذارسانی کی بنا پر ہجرت کر کے حبش چلے گئے تھے۔ حبش ایک عیسائی ملک تھا۔ وہاں وہ عیسائیوں سے متاثر ہو گئے اور انہوں نے اعلان کے ساتھ اسلام کو چھوڑ کر عیسایت اختیار کر لی۔ (سیرت ابن ہشام، جلد ۳، صفحہ ۴۱۷) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’ارتداد‘‘ کے اس واقعہ کا علم ہوا۔ مگر رسول اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ شخص مرتد ہو گیا ہے اور شرعی قانون کے مطابق ، اُس کو قتل کر دینا چاہیے۔ یہ فرق کہ مرتد کے لیے قتل کا حکم مکی دور میں بیان نہیں ہوا، وہ صرف مدنی دور میں بیان ہوا، اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ارتداد کی سزا کا حکم مجرد اعتقادی تبدیلی سے نہیں ہے بلکہ اُس کا تعلق اسلامی ریاست کے خلاف بغاوت سے ہے۔ یعنی اس معاملہ میں حکم قتل کا تعلق جارحانہ ارتداد سے ہے، نہ کہ مجرد طور پر سادہ ارتداد سے۔ مرتد کی سزا ءِ قتل کا مسئلہ اگر اعتقادی روش پر مبنی ہو، یعنی مجرد یہ بات کہ ایک شخص جو اعلان کے ساتھ مذہبِ اسلام پر ہو اور پھر وہ اعلان کے ساتھ مذہبِ اسلام کو ترک کر دے تو وہ قتل کا مستوجب قرار پائے گا۔ اگر یہ حکم صرف شخصی نوعیت کے اعتقادی جُرم پر مبنی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ اس معاملہ میں حد شرعی قائم کرتے ہوئے عورت اور مرد کے درمیان فرق رکھا جائے گا، جب کہ قرآن وحدیث کے دوسرے احکام میں صنفی بنیاد پر اس قسم کی تفریق روا نہیں رکھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: الزانية والزانی فاجلدوا کل واحد منهما مائة جلدة (النور۲) اسی طرح قرآن میں ہے: السارق والسارقة فاقطعوا ايديهما (المائدة (۳۸)۔ اس طرح کے دوسرے بہت سے حوالے قرآن اور حدیث میں موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جُرم کی سزا کے معاملے میں شریعت نے عورت اور مرد کے درمیان فرق نہیں کیا ہے۔ اگر جرم یکساں ہے تو سزا بھی یکساں دی جائے گی۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے ، فقہاء نے مرتد اور مرتدہ دونوں کی سزا کے معاملہ میں فرق کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader