مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 331
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاں تک مرتد مرد کا تعلق ہے اُس کو وہ قابلِ قتل قرار دیتے ہیں مگر مرتد عورت کے بارے میں وہ قتل کے قائل نہیں ۔ اس فرق کا سبب یہی ہو سکتا ہے کہ قتل کے معاملہ کو مرتد باغی سے متعلق کیا جائے ۔ کیوں کہ یہ واقعہ ہے کہ باغیانہ سرگرمیاں ہمیشہ مرد کرتے ہیں ، عورت اپنی انفعالی فطرت کی بنا پر باغیانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوا کرتی ۔ فقہاء کی رائے یہاں ہم زیرِ بحث مسئلہ میں علامہ شعرانی اور امام سرخسی کی تصریحات نقل کرتے ہیں ۔ علامہ شعرانی کی عبارت کا ترجمہ یہ ہے : ”ارتداد کا مطلب اسلام سے تعلق منقطع کرنا ہے، نیت سے یا قول سے یا عمل سے ۔ اور ائمہ کا اتفاق ہے کہ جو اسلام سے مرتد ہو جائے اس کا قتل واجب ہے ۔ اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ زندیق کا قتل واجب ہے اور زندیق وہ ہے جو کافر ہو گیا ہو مگر کفر کو چھپائے اور اسلام کا اظہار کرے ۔ اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ اہل بلد جب مرتد ہو جائیں تو ان سے جنگ کی جائے گی اور ان کا مال مالِ غنیمت شمار ہوگا ۔ یہ وہ مسائل ہیں جن میں میں نے اتفاق پایا ہے ۔ جن مسائل میں اختلاف ہے، ان میں سے امام ابو حنیفہ کا قول ہے کہ مرتد کو فوراً قتل کر دیا جائے گا اور توبہ طلب کرنے کے لیے توقف نہیں کیا جائے گا ۔ اور جب تو بہ طلب کی جائے اور وہ توبہ نہ کرے تو اس کو مہلت نہ دی جائے گی الّا یہ کہ وہ خود مہلت مانگے ۔ اگر وہ مہلت مانگے تو تین بار مہلت دی جائے گی ۔ ان کے اصحاب میں سے بعض نے یہ کہا ہے کہ مہلت دی جائے گی خواہ اس نے مہلت نہ مانگی ہو ۔ امام مالک نے کہا ہے کہ تو بہ طلب کرنا واجب ہے ۔ اگر وہ فوراً تو بہ کرے تو تو بہ قبول کی جائے گی ۔ اور اگر فوراً تو بہ نہ کرے تو تین بار مہلت دی جائے گی ۔ اس امید میں کہ شاید وہ تو بہ قبول کر لے ۔ پس اگر تو بہ کر لے تو ٹھیک ہے ، ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے گا ۔ امام شافعی کا قول ہے کہ تو بہ طلب کرنا واجب ہے، اس کے بعد مہلت نہ دی جائے گی بلکہ فوراً قتل کر دیا جائے گا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader