Urdu book · حکمتِ اسلام

مرتد اور ارتداد

Urdu book, p. 332

By Maulana Wahiduddin Khan

جب کہ وہ ارتداد پر اصرار کر رہا ہو۔ امام احمد سے دو قول مروی ہیں ۔ ایک وہی جو امام مالک کا ہے۔ دوسرا یہ کہ توبہ طلب کرنا ضروری نہیں مہلت دینے کے معاملہ میں ان سے مختلف روایتیں منقول ہیں ۔ حسن بصری کے بارہ میں منقول ہے کہ مرتد سے نہ توبہ طلب کی جائے گی اور نہ فوراً اس کا قتل واجب ہے (ان المرتد لا يستتاب ولا يجب قتله في الحال) عطار نے کہا کہ اگر وہ پیدائش سے مسلمان تھا اور پھر مرتد ہوا، تو اس سے توبہ طلب نہ کی جائے گی۔ اور اگر کافر سے مسلمان ہوا ہو اور پھر ارتداد کا راستہ اختیار کرے تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی ۔ سفیان ثوری سے منقول ہے کہ اس سے ہمیشہ تو بہ ہی طلب کی جائے گی (أنه يُستتاب أبداً ولا يُقتل) پس امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا قول سخت ہے، سوا امہال کے ابوحنیفہ کے نزدیک ۔ اور اصحاب ابو حنیفہ کے قول میں تخفیف ہے۔ اسی طرح امام مالک کا قول ہے امہال اور طلب تو بہ کے بارے میں ۔ امام احمد کے دو اقوال ہیں۔ ایک قول اسی قسم کا ہے۔ اور امام حسن بصری کے قول میں بھی تخفیف ہے ۔ اور عطار کے قول میں تفصیل ہے۔ سفیان ثوری کے قول میں بھی تخفیف ہے۔ کیوں کہ اس کے مطابق ، مرتد سے ہمیشہ توبہ ہی طلب کی جائے گی اور اس کو قتل نہ کیا جائے گا (انہ يستتاب ابدا ولا يقتل) ائمہ ثلاثہ کے قول کے مطابق ، مرتدہ (عورت) کا حکم بھی وہی ہے جو مرتد (مرد) کا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ عورت کو قید کیا جائے گا اور اس کو قتل نہ کیا جائے گا۔ پس پہلا قول سخت ہے اور دوسرے قول میں تخفیف ہے۔ پہلے قول کی وجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے کہ من بدل دینه فاقدلوہ (جو شخص اپنے دین کو بدل لے اس کو قتل کر دو) اس میں مرد اور عورت دونوں شامل معلوم ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ اس حکم کو صرف مردوں سے خاص کرتے ہیں ان کے خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عورت اپنے ارتداد سے دین میں کوئی بڑا خلل پیدا نہیں کر سکتی ۔ اور نہ مرتد ہو کر وہ دین کفر کی طرف سے جنگ کر سکتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page