مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 336
By Maulana Wahiduddin Khan
اور جب مسلمان مرتد ہو جائے تو اس پر اسلام پیش کیا جائے گا۔ اگر وہ اسلام قبول کرلے تو ٹھیک ہے ورنہ قتل کر دیا جائے گا، الا یہ کہ وہ مہلت مانگے۔ پس اگر وہ مہلت مانگے تو اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی۔ اور قتل مرتد کے واجب ہونے کی بنیاد قرآن کی یہ آیت ہے، تقاتلوهم او يسلمون ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنے دین کو بدلے اس کو قتل کر دو۔ اور ارتداد پر مرتد کو قتل کرنا حضرت علی، ابن مسعود اور معاذ وغیرہ صحابہ سے مروی ہے اور یہ حکم اس لیے ہے کہ مرتد کا معاملہ مشرکین عرب جیسا ہے یا اس کا جرم اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہیں اور قرآن ان کی اپنی زبان میں اترا پھر بھی انہوں نے اس کی صحیح رعایت نہیں کی اور شرک کا طریقہ اختیار کیا۔ اسی طرح یہ مرتدین رسول اللہ کے دینی خاندان میں شامل تھے۔ انہوں نے شریعت کی خوبیوں کو جانا پھر بھی وہ اس کی رعایت نہ کر سکے اور ارتداد کا طریقہ اختیار کیا۔ پس جس طرح مشرکین عرب کے لیے حکم ہے کہ اسلام یا تلوار، اسی طرح مرتدین کا معاملہ بھی ہے، الا یہ کہ اگر وہ مہلت مانگے تو اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی۔ کیوں کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی شبہہ لاحق ہوا ہو اور اس کی وجہ سے وہ مرتد ہوا ہو۔ پس ہمارا فرض ہے کہ اس شبہہ کو زائل کرنے کی کوشش کریں، یا یہ کہ اسے کچھ سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہوتا کہ اس پر حق واضح ہو جائے اور یہ کام مہلت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ پس اگر وہ مہلت مانگے تو امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسے مہلت دے۔ اور اس کی مدت تین دن خیار کے مسئلہ پر قیاس کر کے لی گئی ہے۔ پس بنا پر اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی اور اس میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور اگر مہلت نہ مانگے تو اسی وقت قتل کر دیا جائے گا۔ اور امام شافعی کا قول ہے کہ امام پر واجب ہے کہ اس کو تین دن تک مہلت دے، اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader