مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 337
By Maulana Wahiduddin Khan
سے پہلے قتل کرنا جائز نہیں۔ روایت ہے کہ ایک شخص باہر کے کسی مقام سے حضرت عمر کے پاس آیا۔ آپ نے پوچھا کوئی نئی خبر ہے۔ اس نے جواب دیا ہاں، ایک شخص ایمان کے بعد کفر کی طرف چلا گیا۔ پوچھا پھر تم نے کیا سلوک کیا۔ اس ن جواب دیا کہ ہم نے اس کو لیا اور اس کی گردن مار دی۔ آپ نے کہا کہ اگر میں ایسے مرتد کو پاتا تو میں اس سے تین دن تک تو بہ طلب کرتا۔ اگر وہ تو بہ کر لیتا تو چھوڑ دیتا ورنہ اس کو قتل کر دیتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہلت دینا مستحب ہے۔ اور مرتدہ قتل نہیں کی جائے گی بلکہ ہمارے نزدیک وہ قید کی جائے گی اور اسلام قبول کرنے پر مجبور کی جائے گی ۔ امام شافعی کا قول ہے کہ مرتدہ اگر اسلام قبول نہ کرے تو قتل کی جائے گی۔ امام ابو یوسف کا خیال بھی پہلے یہی تھا پھر انہوں نے اس سے رجوع کر لیا۔ اس معاملہ میں ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس کے بارہ میں دو حدیثیں ہیں۔ ایک وہ جو رباح ابن ربیعہ سے مروی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک جگہ جمع ہیں۔ آپ نے دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ ایک مقتول عورت کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کوئی جا کر خالد سے کہہ دیتا کہ وہ کسی مزدور اور عورت کو قتل نہ کریں۔ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقتول عورت کو دیکھا تو فرمایا اس کو کیوں قتل کر دیا۔ یہ تو جنگ نہیں کر رہی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل کا سبب قتال کرنا ہے اس لیے عورتیں قتل نہیں کی جائیں گی کیوں کہ وہ قتال نہیں کرتیں ۔ اور وہ مرتدہ جو قتل کی گئی وہ قتال کرنے والی تھی، کیوں کہ ام مردان قتال میں شریک تھی اور لوگوں کو قتال پر ابھارتی تھی۔ اور یہ اس لیے کہ قتل، ارتداد کی سزا کے طور پر نہیں ہے بلکہ کفر پر اصرار کی بنا پر وہ قتل کا مستحق ہوگا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب وہ اسلام لائے تو اصرار ختم ہو جانے کی وجہ سے سزا ئے قتل ساقط

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader