Urdu book · حکمتِ اسلام

مرتد اور ارتداد

Urdu book, p. 338

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو جاتی ہے۔ اور جو بطور جزا کے مستحق ہو وہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتی جیسے حدود۔ کیوں کہ جب اس کا سبب امام پر ظاہر ہو جائے تو وہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ بلاشبہ تبدیل دین اور کفر اصلی بہت بڑے گناہ ہیں مگر وہ بندے اور خدا کے درمیان کی چیز ہے۔ پس اس کی جزا آخرت پر چھوڑ دی گئی ہے اور جو سزا دنیاہی میں دے دی جائے وہ ایک شرعی سیاست ہے، ان مصالح کی خاطر جو بندوں کو پہنچتی ہیں۔ جیسے قصاص جان کی حفاظت کے لیے، زنا کی حد نسب کی حفاظت کے لیے، چوری کی حد مال کی حفاظت کے لیے، قذف کی حد آبرو کی حفاظت کے لیے اور شراب کی حد عقل کی حفاظت کے لیے ہے۔ اور کفر پر اصرار سے ایک شخص مسلمانوں کے خلاف محارب ہو جاتا ہے پس وہ دفع محاربت کے لیے قتل کیا جائے گا بعض مواقع پر اللہ تعالیٰ نے اس علت کو بیان کیا ہے جیسے یہ آیت کہ’’ پس اگر وہ تم سے قتال کریں تو تم بھی ان سے قتال کرو۔ پس جب ثابت ہو گیا کہ قتل محاربت کے اعتبار سے ہے اور عورت اپنی جسمانی ساخت کے لحاظ سے محاربت کے قابل نہیں ہوتی تو وہ قتل نہیں کی جائے گی البتہ وہ محبوس کی جائے گی۔ اور جب وہ قتال میں شریک ہو تو اس کا قتل دفع کی غرض سے ہوگا۔ اور جب عورت محبوس کر دی جائے تو بغیر قتل کے مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔ اور سبب کے تحقق کے بغیر حکم ثابت نہیں ہوتا۔ ہمارے مشائخ نے مشرکین عرب کے معذورین کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ پس ان کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ وہ کفر اصلی میں قتل کئے جائیں گے کیوں کہ آفت میں مبتلا ہونا عقد ذمہ کی مانند ہے جس سے قتال رک جاتا ہے۔ مگر وہ بھی ہیں کہ عقد ذمہ کے بعد بھی جن سے کفر اصلی میں قتال نہیں رکھتا تو ایسے ہی آفت میں مبتلا ہونے کا معاملہ ہے۔ پس اس قول کے مطابق، مرتدین میں سے معذور لوگ قتل کئے جائیں گے اور دوسرے طبقہ کا قول ہے کہ آفت میں مبتلا بمنزلہ عورت ہونے کے ہے۔ کیوں کہ آفت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کا جسم اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page