Urdu book · حکمتِ اسلام

مرتد اور ارتداد

Urdu book, p. 339

By Maulana Wahiduddin Khan

قابل نہیں رہ جاتا کہ وہ قتال کریں۔ لہذا اس قول کی بنا پر وہ ارتداد کے بعد قتل نہیں کئے جائیں گے جیسا کہ وہ کفر اصلی کی بنا پر قتل نہیں کئے جاتے۔۔۔۔۔۔ جب ثابت ہو گیا کہ مرتدہ قتل نہیں کی جائے گی تو ہم کہتے ہیں کہ وہ لونڈی بنائی جائے گی جب کہ وہ دار الحرب کی طرف چلی جائے۔ اور ابن عباس سے مرتد عورتوں کے بارہ میں منقول ہے کہ وہ لونڈی بنائی جائیں گی اور قتل نہیں کی جائیں گی۔ یہ حکم اس لیے ہے کہ وہ حربیق کی مانند ہیں اور لونڈی بنانے کا حکم حربی عورتوں کے بارہ میں ہے۔ اور امام ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ مرتد عورت لونڈی بنائی جائے گی کیوں کہ جب ہم نے مرتد مرد کو بمنزلہ حربی قرار دیا ہے جس کو امان نہیں تو اسی طرح مرتدہ عورت بمنزلہ حربی ہے، پس اس کو لونڈی بنایا جائے گا۔ اور مملوک کو قتل کیا جائے گا ارتداد پر کیوں کہ وہ آزاد کی طرح محارب ہے۔ اور مملوک قتل نہیں کی جائے گی بلکہ قید کی جائے گی کیوں کہ وہ قتال کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ امام شعرانی اور امام سرخسی کی تصریحات جو ہم نے اوپر نقل کیں، ان سے حسب ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں: • ارتداد کی سزا کے بارے میں نرم اور سخت دو قسم کی راہیں منقول ہیں حتی کہ اس کی مثالیں بھی موجود ہیں کہ ایک ہی امام نے دو حالتوں میں دو مختلف راہیں دی ہیں۔ • جس طرح مرتد کو قتل کرنے کے متعلق اقوال ہیں اسی طرح بعض اقوال یہ بھی ہیں کہ مرتد کو قتل نہیں کیا جائے گا اور اس سے ہمیشہ صرف توبہ ہی طلب کی جائے گی، یعنی اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے گی۔ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دین کفر کی طرف سے ہو کر جنگ نہیں کرتی۔ بعض مرتد عورتوں کو قتل کیا گیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قتال میں کسی اعتبار سے شریک تھیں۔ • قتل ارتداد کی سزا نہیں۔ یہ سزا صرف اصرار کفر کی بنا پر ہے، وہ اصرار کفر جو محارب بت تک پہنچ گیا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page