مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 340
By Maulana Wahiduddin Khan
تبدیلی دین، خدا اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہے۔ یہ ریاست کا معاملہ نہیں۔ اس معاملہ میں جو سزا دی جاتی ہے وہ شرعی مصلحت کی بنیاد پر ہوتی ہے نہ کہ کسی مذہبی حکم کی بنیاد پر۔ مرتد کو دفع محاربت کے لیے قتل کیا جائے گانہ کہ مجرد ارتداد کی بنا پر۔ قتل کی سزا کا سبب دفع محاربت ہے اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ سبب کے تحقق کے بغیر حکم ثابت نہیں ہوتا۔ جن مرتدین کے قتل کا حکم ہے ان کو بمنزلہ حربی قرار دے کر یہ حکم دیا گیا ہے۔ مرتدین اہل اسلام کے لیے اہل حرب (برسر جنگ گروہ) کی مانند ہیں۔ اگر مجرد ارتداد شرعاً ایک مستوجب قتل جرم ہوتا تو توبہ کے باوجود مرتد کو قتل کر دیا جاتا۔ کیوں کہ حدود و شرعیہ کے اسباب قطعی طور پر متحقق ہو جانے کے بعد امام کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ ان کا نفاذ کرے۔ مجرم کی توبہ یا کسی کی سفارش وغیرہ کی بنیاد پر انہیں ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ فقہاء کی ایک تعداد یہ کہتی ہے کہ ’’مرتد‘‘ سے ہمیشہ توبہ طلب کی جائے گی اور اس کو قتل نہیں کیا جائے گا (يستتاب ابدا ولا يقتل)۔ تجربہ کے مطابق، یہ طریقہ درست ثابت ہوا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ایسے شخص کو مرتد قرار دے کر اس کے گردن زدنی ہونے کا فتویٰ دینا، عملی تجر بہ میں بے فائدہ ثابت ہوا ہے۔ اس کی دو مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ امریکا میں سیاہ فام مسلمانوں کا ایک فرقہ پیدا ہوا جو اپنے کو نیشن آف اسلام کہتا تھا۔ ان کے عقائد تقریباً وہی تھے جو انڈیا میں احمدی فرقہ کے عقائد ہیں۔ دونوں کے کیس کی نوعیت ایک تھی۔ برصغیر ہند میں علماء کی بہت بڑی تعداد احمدی فرقہ کے خلاف قلمی جنگ میں مصروف ہو گئی۔ ان کو کافر قرار دیا گیا۔ ان کے خلاف سخت فتوے دیے گئے۔ مگر عملاً احمدی جماعت (قادیانی جماعت) کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اور نہ وہ تائب ہوئے۔ اس کے برعکس مثال امریکا کی ہے۔ امریکا میں وہ ماحول نہ تھا جو برصغیر ہند میں تھا۔ نیشن آف اسلام کے خلاف تکفیر اور گردن زدنی کے فتوے امریکا میں نہیں دیے جا سکتے تھے۔ اس طرح کے کیس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader