مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 341
By Maulana Wahiduddin Khan
میں وہاں صرف ایک ہی چیز ممکن تھی۔ اور وہ ڈائیلاگ ہے۔ چنانچہ امریکا کے مسلمان حالات کے زیر اثر پر امن نصیحت اور ڈائیلاگ میں مصروف ہو گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نیشن آف اسلام کی بڑی اکثریت تائب ہو کر مسلمانوں کی مین اسٹریم میں شامل ہوگئی۔ یہ تقابلی مثال واضح طور پر بتاتی ہے کہ اس طرح کے معاملہ میں فتویٰ کا طریقہ درست نہیں۔ اس طرح کے معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ ارتداد میں مبتلا ہوئے ہوں، ان کے لیے دعائیں کی جائیں، ان کو ہمدردانہ نصیحت کی جائے، ان کو دلائل کی زبان میں مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہی طریقہ اسلامی طریقہ ہے اور یہی طریقہ عملاً نتیجہ خیز ہے۔ اسی نوعیت کی اور مثال وہ ہے جو ۱۹۴۷ کے زمانہ میں ہندوستان میں سامنے آئی۔ ۱۹۴۷ میں جب انڈیا آزاد ہوا تو اسی کے ساتھ یہاں ہندو۔ مسلم فسادات شروع ہو گئے۔ دہلی کے آس پاس کے سیکڑوں دیہاتوں میں یہ ہوا کہ حالات کے شدید دباؤ کے تحت یہاں کے مسلمان مرتد ہو گئے۔ انہوں نے دوبارہ ہندو دھرم اختیار کر لیا۔ انہوں نے اپنے گھروں میں مورتیاں رکھ لیں، وغیرہ۔ خوش قسمتی سے یہاں مفتی صاحبان نہیں پہنچے۔ اس کے برعکس تبلیغی جماعت کے لوگ ان دیہاتوں میں پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنے طریقہ کے مطابق، پر امن انداز میں خاموش اصلاحی کام شروع کر دیا۔ تبلیغی جماعت نے اپنے طریقہ کے مطابق، ان مرتدین پر فقہی حکم نہیں لگایا بلکہ اپنی ساری توجہ ان کی اصلاح پر لگادی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان مرتدین کی بڑی اکثریت تائب ہو کر دوبارہ اسلام میں داخل ہوگئی۔ مفتی صاحبان کے طریقہ کو میں اصولی طور پر غلط سمجھتا ہوں۔ اسی کے ساتھ عملی تجربہ میں بھی وہ تمام تر غلط ثابت ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں تبلیغی جماعت کا اصلاحی طریقہ شرعاً بھی درست ہے اور اپنے تجربہ میں بھی وہ مفید ثابت ہوا ہے۔ تاریخ کی شہادت ارتداد کے مسئلہ کو جب ہم تاریخ کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو ہمارے سامنے ایسے واقعات آتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader