Urdu book · حکمتِ اسلام

مرتد اور ارتداد

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں جو مندرجہ بالا نتائج کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہاں اس سلسلے میں کچھ واقعات نقل کیے جاتے ہیں۔ خلیفہ اول ابو بکر صدیق نے اپنے زمانہ خلافت میں یمن کے جن مرتدین سے قتال کیا، ان کے دو طبقے تھے۔ ایک طبقہ مانعین زکوۃ کا تھا۔ انہوں نے دین اسلام کو ترک کر کے کفر و شرک کو نہیں اختیار کر لیا تھا بلکہ یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے۔ اور اسلام کے دیگر ارکان مثلاً نماز اور روزہ کی پابندی کا یقین بھی دلاتے تھے، حتیٰ کہ وہ زکوۃ کی فرضیت کے بھی معترف تھے۔ مگر محض بخل اور تنگ دلی کی وجہ سے وہ زکوۃ کی ادائیگی سے انکار کر رہے تھے۔ وہ خود کہتے تھے کہ خدا ہم نے ایمان کے بعد کفر نہیں کیا۔ بلکہ اپنے مالوں پر حرص کیا (حتی قالوا، والله ما كفرنا بعد إيماننا، ولكن شححنا على أموالنا) الاحكام السلطانيه، قاضي ابو ليلى۔ مگر چوں کہ اس وقت زکوۃ کی وصولی شرعی قاعدہ کے مطابق، اسلامی حکومت کے مقرر کردہ عاملین کے ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ اس لیے اس کی ادائیگی سے انکار گویا اسلامی نظام حکومت کی اطاعت سے انکار کرنا تھا۔ اس بنا پر ان سے قتال کیا گیا۔ چنانچہ قاضی ابو یلی نے لکھا ہے : ولو امتنعوا من أدائها إلى الإمام العادل مع الاعتراف بوجوبها، كانوا من بغاة المسلمين، يقاتلون على المنع منه (الاحكام السلطانية) یعنی اگر وہ امام عادل کو زکوۃ نہ دیں، خواہ وہ اس کے وجوب کا اعتراف کرتے ہوں تو ان کا شمار مسلم باغیوں میں ہوگا اور اس بنا پر ان سے قتال کیا جائے گا۔ مرتدین کا دوسرا طبقہ وہ تھا جنہوں نے صرف زکوۃ کی فرضیت یا اس کی ادائیگی سے انکار نہیں کیا بلکہ اپنے اپنے قبیلہ کے جھوٹے مدعیان نبوت کا ساتھ دے کر مدینہ کی اسلامی ریاست کے خلاف ایک مستقل محاذ بنا لیا اور اس کو ختم کرنے کے درپے ہو گئے۔ قبائلی عصبیت کے شدید غلبہ کی وجہ سے ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ مدینہ کی سیاسی اطاعت کے معنی ہیں، قریش کی بالا دستی کو تسلیم کرنا جس کے لیے وہ تیار نہیں تھے۔ اس لیے وہ چاہتے تھے کہ اقتدار میں ان کو بھی شریک کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ جن افراد نے نبوت کا دعویٰ کیا اور جنہوں نے ان کا ساتھ دیا اس کے پیچھے اصلاً یہی سیاسی محرک کار فرما تھا نہ کہ کوئی دینی محرک۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page