Urdu book · حکمتِ اسلام

مرتد اور ارتداد

Urdu book, p. 343

By Maulana Wahiduddin Khan

مثال کے طور پر مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کے بعد اپنے قبیلہ بنو حنیفہ کے لوگوں کے سامنے جو پہلی تقریر کی اس میں یہ مطالبہ کیا کہ سرزمین عرب کا آدھا حصہ قریش کے لیے ہو اور دوسرا آدھا بنو حنیفہ کے لیے۔ لیکن قریش انصاف کرنے والے لوگ نہیں (أن يكون نصف الأرض لقريش، ولبنی حنیفة نصفها، ولكن قريشا قوم لا يعدلون) محمد الخضری بک، تاريخ الأمم الاسلامية، الجزء الاول، الطبعة الرابعة ۱۳۵۲ھ، ص ۱۷۸ بنو حنیفہ کی مجنونانہ عصبیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ خود ان میں بعض ایسے افراد تھے جو کہتے تھے کہ مسیلمہ یقیناً جھوٹا ہے۔ اور محمد یقیناً سچے ہیں، لیکن ربیعہ کا کذاب ہمیں مضر کے صادق سے زیادہ عزیز ہے۔ (کان بعضهم يقول أشهد أن مسيلمة كذاب، وأن محمدا صادق، ولكن كذاب ربيعة أحب إلينا من صادق مضر ) بحوالہ سابق مالک بن نویرہ کی قیادت میں ابتداء بنو تمیم کے کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا۔ جب کہ دوسرے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہوئے عہد پر قائم رہے اور انہوں نے حضرت ابو بکر کو اپنی زکوٰۃ ادا کی۔ مگر بعد میں مالک بن نویرہ اپنے ساتھیوں کو لے کر بنو تغلب کی ایک عورت سجاح بنت الحارث سے مل گیا جو نبوت کی مدعی تھی اور اپنے ساتھ تغلب کے عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد کو لے کر مدینہ پر حملہ کے ارادہ سے نکلی تھی۔ مالک بن نویرہ نے اس سے مصالحت کر کے اس کو مشورہ دیا کہ پہلے بنو تمیم کے ان لوگوں کا صفایا کرنا چاہیے جو ہماری مخالفت کر رہے ہیں اور اب بھی مدینہ کی اسلامی ریاست کے وفادار بنے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اس نے اپنے لشکر کو اکسایا کہ وہ ایسے تمام لوگوں کو بے دریغ قتل کر دیں۔ اس کے بعد اس نے یمامہ کا رخ کیا۔ جہاں مسیلمہ اپنے تقریباً ۴۰ ہزار پیروؤں کے ساتھ پہلے سے موجود تھا۔ دونوں نے آپس میں صلح کر لی اور یہ فیصلہ کیا کہ خالد بن ولید کی قیادت میں یمامہ کی طرف بڑھنے والی مسلم فوج کا دونوں مل کر مقابلہ کریں گے۔ یمامہ کی خون ریز لڑائی میں مسیلمہ کے قتل کے بعد مرتدین کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔ وہ سب کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page