Urdu book · حکمتِ اسلام

مرتد اور ارتداد

Urdu book, p. 344

By Maulana Wahiduddin Khan

سب بھاگ کر قلعہ بند ہو گئے ۔ ان کی طرف سے جماعہ بن مرارہ نے حضرت خالد بن ولید کو صلح کی پیش کش کی۔ جس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جنگ میں شریک افراد کو قتل نہ کیا جائے (ألابقتل المقاتلون ) حضرت خالد نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے صلح نامہ لکھ دیا۔ عین اس موقع پر حضرت ابو بکر کا ایک خط ان کو ملا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ بنو حنیفہ کے وہ تمام لوگ قتل کر دیے جائیں جو اس جنگ میں شریک تھے۔ مگر حضرت خالد نے شرائط صلح کی پابندی کرتے ہوئے انہیں قتل نہیں کیا۔ اس کے بعد بنو حنیفہ نے وفود کی شکل میں حضرت ابو بکر کے پاس جا کر دوبارہ اسلام کا اقرار کر لیا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اگر ارتداد ہر حال میں اور مطلق طور پر مستوجب قتل ہوتا تو ان لوگوں کو بالکل معاف نہیں کیا جاتا۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والوں میں ایک طلیحہ بن خویلد الاسدی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر پا کر نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ بنو اسد بن خزیمہ اور اس کے حلیف قبائل طیٰ ، غطفان اور ذبیان وغیرہ کے بے شمار لوگ مرتد ہو کر اس کے ساتھ ہو گئے اور اس کی قیادت میں بزاحہ کے مقام پر اپنا ایک فوجی محاذ قائم کر لیا۔ حضرت خالد بن ولید نے جب ان کو شکست دی تو طلیحہ وہاں سے بھاگ کر شام چلے گئے اور حضرت ابو بکر کی وفات تک وہیں رہے۔ پھر حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں وہ دوبارہ مسلمان ہو کر مدینہ آئے تو حضرت عمر نے ان کے اسلام کو قبول کیا اور ان سے نہ کسی خون پر مواخذہ کیا نہ مال پر ( فأقره عمر رضي الله عنه بعد إسلامه، ولم يأخذه بدم ولا مال )۔ الأحكام السلطانية، للماوردی - حالاں کہ کسی حد کی سزا تو بہ کی بنیاد پر معاف نہیں ہوتی۔ مذکورہ واقعات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت ابو بکر کے زمانے میں عمومی ارتداد کا جو واقعہ پیش آیا وہ محض تبدیلیٔ دین کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ اسی کے ساتھ وہ مدینہ کی اسلامی ریاست کے ساتھ سیاسی غداری بھی تھی۔ مزید یہ کہ ان مرتد قبائل میں سے بعض نے عملاً مدینہ کے اوپر جارحانہ حملے بھی کئے۔ بعض نے اپنے قبیلہ کے ان وفادار مسلمانوں کا قتل عام کیا جو اب بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے خلیفہ کے عاملین کو زکواۃ ادا کر رہے تھے۔ اگر مجرد تبدیلیٔ دین پر قتل یا قتال کے حکم کو ایک مطلق اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page