مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 345
By Maulana Wahiduddin Khan
قطعی حکم مانا جائے، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے تو ہم ان واقعات کی کوئی توجیہہ نہیں کر سکتے جن میں مرتدین پر قابو پا لینے کے بعد اُنھیں معاف کر دیا گیا۔ بعد کے دور میں بھی اس کی تاریخی شہادتیں موجود ہیں کہ ارتداد کے باوجود افراد کو قتل نہیں کیا گیا اور اس فعل پر علماء و فقہاء نے کوئی نکیر نہیں کی ۔ مثال کے طور پر ابو زید احمد بن سہل بلخی نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں عباسی زمانہ میں مسلم اقتدار کے علاقوں میں ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص مسلمان ہو کر دوبارہ اپنے سابق مذہب کی طرف لوٹ جاتا تھا اور قدیم رواج کے مطابق ، اس کی واپسی کی مذہبی رسوم ادا کی جاتی تھیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو دوبارہ غیر مسلم بنانے کا طریقہ کیا تھا، اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں: ومن ارتد منهم اذا سباه المسلمون لم يقتلوه حتى يزكوه ويطهر وه ان تحلق كل شعرة من رأسه وجلده ، ثم يجمع بول البقر واختائها وسمنها ولبنها فيسقى منها اياما ثم ينصب به الى البقرة فيسجد بها (البدء والتاريخ، جلد ۴، صفحه ۲) ہندوستان میں مسلمان جب کسی غیر مسلم کو جنگ میں گرفتار کرتے اور بعد میں وہ اپنے مذہب میں واپس چلا جاتا تو اس کی قوم والے اسے قتل نہیں کرتے تھے۔ بلکہ پاک کرتے تھے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ اس کے سر اور بدن کے تمام بال مونڈ دیتے ، پھر گائے کا پیشاب ، گوبر، دودھ ، گھی جمع کر کے اسے کئی دن تک پلاتے ۔ اس کے بعد اسے گائے کے سامنے لے جاتے اور وہ اس کو سجدہ کرتا۔ اس قسم کی ’’ارتداد‘‘ کی مثالیں پیش آتی رہیں مگر ایسا نہیں ہوا کہ ان کو قتل کر دیے جانے کا فتویٰ دیا جائے۔ پچھلی بحث سے معلوم ہوا کہ قتل مرتد کا حکم قرآن (فتح ۱۶) سے ثابت نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک تفسیری قیاس ہے جس کے لیے کوئی قطعی دلیل نہیں ۔ سورہ فتح کی آیت کی زیادہ صحیح تفسیر وہ ہے جو دوسری آیات اور احادیث سے نکلتی ہے، یعنی یہ کہ یہ آیت مشرکین عرب کے بارے میں ہے جن سے متعلق اما الاسلام او القتل کا حکم تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جن پر نبی نے آخری حد تک حجت تمام کر دی تھی۔ اس لیے سنت انبیاء کے مطابق حکم دیا گیا کہ وہ یا تو اسلام لائیں ورنہ قتل کر دئے جائیں گے ۔ فتح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader