مرتد اور ارتداد
Urdu book, p. 346
By Maulana Wahiduddin Khan
کی آیت سے اگر قتل مرتد کا حکم نکالا جائے تو یہ قرآن کے دوسرے حکم کے خلاف ہوگا جس میں کہا گیا ہے کہ لا اکراہ فی الدین۔ مذکورہ حدیث میں تغییر دین یا تبدیل دین کا لفظ ہے۔ اس سے بظاہر وہ حکم بھی نکالا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے دوسرے معنی یہ بھی لیے جا سکتے ہیں کہ اس سے مراد وہ تبدیلی دین ہے جو اسلام کے محاذ سے نکل کر غیر اسلام کے محاذ میں چلے جانے کے ہم معنی ہو۔ جیسا کہ عملاً اُس وقت تھا۔ یہ حدیث ہجرت کے بعد کی ہے جب کہ اسلام اور غیر اسلام میں مکمل تصادم شروع ہو گیا تھا۔ اس وقت دین بدلنے کے معنی عملاً یہی بن گئے تھے کہ آدمی اسلامی کیمپ سے نکل کر غیر اسلامی کیمپ میں جانا چاہتا ہے۔ یہ سادہ معنوں میں صرف اسلامی عقیدہ کو چھوڑنا نہیں تھا بلکہ وہ وفاداری تبدیل کرنا یا دوسرے الفاظ میں ریاست سے بغاوت کرنا تھا۔ اس قسم کا سیاسی ارتداد شارع کی نظر میں گردن زدنی ہے۔ اسلام میں دو قسم کی سزائیں ہیں— ایک اُخروی سزا اور دوسرے دنیوی سزا۔ دنیوی سزا کا تعلق سماجی جرم سے ہے، یعنی ایک شخص ایسا جرم کرے جس سے سماج میں فساد پیدا ہوتا ہے، جس سے دوسرے انسانوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچے، جس سے دنیوی زندگی کے معمول میں کوئی خرابی واقع ہوتی ہو۔ اس سزا کا تعلق حکومت اور عدالت سے ہے۔ حکومت اور عدالت ایسے ہر سماجی جرم پر مجرم کو حسب ضرورت کم یا زیادہ سزا دے سکتی ہے۔ شریعت میں اس دنیوی سزا کو حدود اور تعزیرات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حدود سے مراد وہ سزا ہے جو نص قطعی سے ثابت ہو، اور تعزیرات سے مراد وہ سزا ہے جو حاکم وقت اپنے اختیار کے تحت نافذ کرے۔۔ دوسری سزا وہ ہے، جس کا تعلق آخرت سے ہے۔ یہ سزا جہنم کی صورت میں کسی کو آخرت میں دی جائے گی۔ اس دوسری سزا کا تعلق شخصی گناہ پر ہے اور اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اعتقادی ارتداد اُخروی معنوں میں ایک انفرادی جرم ہے، وہ سماجی نوعیت کا جرم نہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مجرّد اعتقادی ارتداد کی سزا دنیوی قتل نہیں ہو سکتا۔ یہ اُخروی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader