Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

غصہ پی جانا قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں ایک اہم اخلاقی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں جب ایک آدمی کو دوسرے کے اوپر غصہ آئے تو اس کو چاہئے کہ وہ غصہ کو پی جائے اور اس کو معاف کر دنے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے: ”اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں‘ (الشوریٰ ۳۷) غصہ ایک غیر فطری حالت ہے۔ جب آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کا دماغ اپنی فطری حالت پر باقی نہیں رہتا۔ وہ معتدل انداز میں سوچنے پر قادر نہیں رہتا۔ غصہ میں مبتلا انسان نہ درست طور پر سوچ پاتا اور نہ درست طور پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر سکتا۔ غصہ کسی آدمی کا اعتدال چھین لیتا ہے۔ وہ اس کو غیر معتدل انسان بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غصہ کو پی جانا خود اپنے آپ کی حفاظت کرنا ہے۔ غصہ کو پی جانا اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی حقیقت پسندانہ انداز میں سوچے ۔ وہ زیادہ نتیجہ خیز انداز میں اپنی کارروائی کی منصوبہ بندی کرے۔ غصہ کو پی جانا خارجی اعتبار سے ایک اخلاقی سلوک ہے۔ مگر داخلی اعتبار سے وہ اپنی تعمیر کے ہم معنی ہے۔ جب کوئی آدمی غصہ کے حالات میں غصہ نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ وہ اپنی قوت کو منفی رُخ پر جانے سے روکتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو بھر پور طور پر صرف اپنی تعمیر میں لگائے۔ دوسرے کی تخریب میں غیر ضروری طور پر وہ اپنے وسائل کا کوئی حصہ ضائع نہ کرے۔ مشورہ مفید ہے قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں جو تعلیمات دی گئی ہیں اُن میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو مشورہ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اہل حق کی صفات میں سے ایک صفت اسی مشورہ کو بتایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: ”اور وہ اپنا کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہیں‘ (الشوریٰ ۳۸) مشورہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی معاملہ میں حل تلاش کرنے کے کام کو اجتماعی بنا دیا جائے۔ اپنی سمجھ کے ساتھ دوسروں کی سمجھ کو اُس میں شامل کر لیا جائے۔ مشورہ کا مطلب گویا انفرادی عقل کو اجتماعی عقل بنا دینا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page