Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

مشورہ میں یہ ہوتا ہے کہ کئی آدمی کسی موضوع پر ڈسکشن کرتے ہیں۔ اس طرح کے ڈسکشن کے فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ معاملہ کے نئے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ مشورہ اگر کھلے ذہن کے ساتھ کیا جائے اور تنقید اور تعریف کے جذبہ سے بلند ہو کر اُس کو سنا جائے تو مشورہ کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ مشورہ میں جو فائدے ہیں اُن کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ لوگ تحفظ ذہنی کے ساتھ نہ بولیں بلکہ وہ جو کچھ کہیں کھلے ذہن کے ساتھ کہیں اور سننے والے بھی اُس کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں۔ یہ سب مشورہ کے آداب ہیں۔ جس مشورہ میں ان آداب کو ملحوظ رکھا جائے وہ مشورہ بے حد با برکت بن جاتا ہے۔ مشورہ کو اگر حسن نیت کے ساتھ کیا جائے تو وہ ایک عبادت ہے۔ مشورہ دین اور دنیا دونوں قسم کے فائدوں کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اپنے اصحاب کے ساتھ کھلا مشورہ کرتے تھے اور لوگ کسی پابندی کے بغیر اپنی رائے دیتے تھے۔ ماننے سے پہلے تحقیق قرآن کی سورہ نمبر ۴۹ میں اجتماعی زندگی کے بارے میں ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ کسی بات کو صرف سن کر نہ مان لیا جائے ۔ مذکورہ آیت کا ترجمہ یہ ہے : ”اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے“ (الحجرات ۶) لوگ جب مل جل کر رہتے ہیں تو اجتماعی زندگی کے نتیجہ میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ اُن میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایک کو دوسرے کی طرف سے بار بار خبریں پہنچتی ہیں۔ ان خبروں پر سننے والے کا رد عمل کیا ہونا چاہئے اسی کی بابت ایک اصول مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ سننے والا جب کسی بات کو سُنے تو ماننے سے پہلے اُس کی تحقیق کرے۔ تحقیق کے بغیر صرف سُنے کی بنیاد پر کوئی رائے قائم نہ کی جائے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر ایک کی بات دوسرے تک صحیح شکل میں نہیں پہنچتی۔ بات کو پہنچانے والا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page