حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
درمیانی شخص اکثر بات کو بدل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ ہر بات کا ایک بیک گراؤنڈ یا موقع محل ہوتا ہے۔ مگر بات کو نقل کرنے والا اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ بیک گراؤنڈ کو بتائے بغیر مجرد شکل میں بات کو بیان کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بات اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کچھ ہوتی ہے اور سننے والے تک پہنچ کردہ کچھ اور ہو جاتی ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر سننے والا آدمی غلط رائے قائم کرتا ہے اور غلط اقدام کر ڈالتا ہے جس کا نتیجہ آخر کار اس صورت میں نکلتا ہے کہ آدمی اپنے کیے پر شرمندہ ہوتا ہے، حالاں کہ اب وقت اُس کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ ہر سماج میں پیش آتا ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر یہ مزاج بنائے کہ وہ صرف سن کر کسی بات کو نہ مان لے۔ ماننے سے پہلے وہ ضروری تحقیق کرے۔ اور اگر وہ تحقیق نہیں کر سکتا تو ایسی حالت میں اُس کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ سنی ہوئی بات کو بھلا دے۔ وہ اُس پر نہ کوئی رائے قائم کرے اور نہ اُس کی بنیاد پر کسی اقدام کا منصوبہ بنائے۔ کلام کے آداب قرآن کی سورہ نمبر ۴۹ میں کچھ اخلاقی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ اخلاقی ہدایات کلام کے آداب سے متعلق ہیں۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”اے ایمان والو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اُڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں ۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے لقب سے پکارو۔“ (الحجرات ۱۱) قرآن کی اس آیت میں اُس اجتماعی مسئلہ کا ذکر ہے جو اکثر ایک اور دوسرے کے درمیان اختلاف کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اختلاف پیش آتے ہی دوسرے کو غلط اور اپنے کو صحیح سمجھ لیتے ہیں۔ اس نفسیات کے تحت یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کا مذاق اُڑانے لگتا ہے۔ وہ اُس کے خلاف تحقیری الفاظ بولتا ہے۔ وہ اُس کی طعنہ زنی کرتا ہے۔ وہ اُس کو بُرے نام سے پکارنے لگتا ہے۔ وہ اُس کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ چیزیں سماج کے اندر آپس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader