Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

تعلقات میں کڑواہٹ پیدا کر دیتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے متنفر ہو جاتے ہیں۔ خوشگوار باہمی تعلقات کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک سماجی بگاڑ ہے جس کا بُرا نتیجہ ہر ایک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس مسلئہ کا حل یہ ہے کہ لوگ صرف رایوں کے اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے کے بارہ میں بُرا گمان قائم نہ کریں۔ اختلاف کے وقت لفظی ریمارک دینے سے مکمل پرہیز کریں۔ اس کے بجائے وہ ایسا کریں کہ جب کسی سے اختلاف پیدا ہو تو سنجیدگی اور غیر جانبداری کے ساتھ اُس پر غور کریں اور پھر اپنی بات کو دلیل کے انداز میں بیان کریں۔ علمی تنقید میں کوئی حرج نہیں مگر ذاتی تنقیص یقینی طور پر بری چیز ہے اور انسان کی اجتماعی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اجتماعی زندگی میں لوگوں کا سابقہ ایک دوسرے کے ساتھ جس چیز میں پڑتا ہے وہ زبان ہے۔ زبان کا غلط استعمال آپس میں تلخی پیدا کر دیتا ہے اور زبان کا درست استعمال آپس میں محبت کو بڑھاتا ہے۔ زبان سے آدمی صرف الفاظ بولتا ہے مگر یہ الفاظ عملی اعتبار سے بڑے بڑے نتائج پیدا کرتے ہیں، اچھے بھی اور بُرے بھی، خواہ خاندانی زندگی ہو یا وسیع تر معنوں میں سماجی زندگی، ہر جگہ زبان کا استعمال بے حد اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ زبان کے استعمال میں بے حد محتاط رہے۔ ڈی کنڈیشننگ کی ضرورت قرآن کی سورہ نمبر ۵۰ میں آخرت کا ایک منظر بتایا گیا ہے۔ حق کے منکرین دوبارہ زندہ ہو کر خدا کے سامنے لائے جائیں گے۔ اُس وقت خدا اُن سے خطاب کرتے ہوئے فرمائے گا وجاء ت كل نفس معها سائق وشهيد، لقد كنت في غفلة من هذا فكشفنا عنك غطاءك فصرك اليوم حديد : ”ہر شخص اس طرح آگیا کہ اُس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔ تم اس سے غفلت میں رہے، پس ہم نے تمہارے اوپر سے پردہ ہٹا دیا، پس آج تمہاری نگاہ تیز ہے۔“ (ق ۲۱ - ۲۲) قرآن کی ان آیتوں میں جس معاملہ کا ذکر ہے اُس کو انسانی زبان میں کنڈیشنگ اور ڈی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page