حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
کنڈیشننگ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ آدمی اپنے بچپن اور جوانی کی عمر میں ذہنی اعتبار سے غیر پختہ (immature) ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں وہ تجزیہ کرنے اور صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہر آدمی اپنے ماحول کے اعتبار سے متاثر ذ ہن بن جاتا ہے۔ اسی کونفیات کی اصطلاح میں کنڈیشننگ (conditioning) کہتے ہیں۔ اس کنڈیشننگ کی بنا پر آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ چیزوں کو بے آمیز صورت میں دیکھ سکے۔ وہ چیزوں کو ویسا نہیں دیکھتا جیسا کہ وہ ہیں۔ بلکہ وہ چیزوں کو اُس طرح دیکھتا ہے جیسا کہ اُس کا ذ ہن اُس کو دکھانا چاہتا ہے۔ اس لیے صحیح طرزِ فکر یا آبجیکٹیو تھنکنگ (objective thinking) کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے ذہن کے اوپر پڑے ہوئے مصنوعی پردوں کو ایک ایک کرکے ہٹادے۔ خود احتسابی کا یہ عمل ہر آدمی کو لازماً کرنا ہے۔ اس ڈی کنڈیشننگ کے بغیر کوئی آدمی اس قابل نہیں ہوسکتا کہ وہ حقیقت میں بنے، وہ چیزوں کے بارہ میں بالکل درست رائے قائم کرسکے۔ لالچ کا نقصان قرآن کی سورہ نمبر ۵۹ میں ایک ایسی اخلاقی بُرائی کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسان کی کامیابی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”اور جو شخص اپنے جی کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں،‘ (الحشر ۹) لالچ (شُح نفس) کیا ہے ۔ یہ دراصل دل کی تنگی ہے۔ یہ دل کی تنگی سے پیدا ہونے والی صفت کا دوسرا نام ہے۔ انسانوں میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں ۔ تنگ دل اور فراخ دل۔ تنگ دل انسان وہ ہے جو اپنی ذات کے دائرہ میں سوچے ۔ جس کا مقصد صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا ہو۔ یہی وہ آدمی ہے جو لالچ یا شُح نفس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ کوئی شخص جب بھی کوئی فائدہ حاصل کرتا ہے تو وہ سماج کے مجموعی تعاون کی مدد سے حاصل کرتا ہے۔ ایسی حالت میں لالچ یا تنگ دلی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے لیے تو سماج سے لینا چاہتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader