ہندوستان آزادی کے بعد
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
ناقص شکل میں کہ اصل سے کئی گنا روپے خرچ کرنے کے بعد بھی اس کے مطالبات پورے نہیں ہوتے اور بننے کے تھوڑے دنوں بعد ہی اس کی اصلاح و مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں سے کچھ لوگوں کو فائدہ ملنا اور تمام لوگوں کے حصے میں مہنگائی آنا یہ معنی رکھتا ہے کہ لوگوں سے ٹیکس وصول کر کے اس کو کچھ لوگوں کی جیبوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ جو کچھ سب کو ملنا چاہیے وہ کچھ لوگوں کو دیا جا رہا ہے۔ یہ مسائل جو ملک کو گھیرے ہوئے ہیں ان کو حل کرنے کے لیے ادھر کچھ دنوں سے سوشلزم اور منصوبہ بندی کا نام بہت زیادہ لیا جانے لگا ہے۔ یہ بات جن الفاظ اور جن اصطلاحات میں بیان کی جاتی ہے، اس کے لحاظ سے وہ بظاہر ایک نئی چیز معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ اس کا مطلب صر ف یہ ہے کہ حکومت کا دائرہ وسیع کر دیا جائے ۔ پبلک کے اوپر حکومت کے اختیارات جو ابھی تک محدود تھے ان کو لا محدود کر دیا جائے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ اصلاحِ حال کی ان ہی کوششوں کو جو پچھلے سالوں میں ناکام ہو چکی ہیں، آئندہ جاری رکھنے کے لیے نیا عنوان دینا ہے۔ سوشلزم یا منصوبہ بندی کا مطلب سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ ملک کے ذرائع و وسائل کو جس حد تک ممکن ہو، حکومت اپنے قبضہ میں لے لے، اور ان کو مفادِ عام کے مطابق خرچ کرے۔ یہ کام حکومت پہلے سے کرتی رہی ہے۔ پھر جو طریق کار اب تک کوئی نتیجہ نہ دکھا سکا اسی سے آئندہ کسی بہتر انجام کی توقع کس طرح کی جا سکتی ہے۔ منصوبہ بندی کا مطلب صرف یہ ہے کہ اب حکومت کو زیادہ ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات ہوں گے۔ وہ زمینوں اور کارخانوں کو اپنے اہتمام میں چلانے کے لیے قوانین بنا سکے گی۔ تجارت اور لین دین دو جواب تک دو طبقوں، تاجر اور خریدار، کے باہمی عمل سے انجام پاتا تھا— اب اس میں ایک تیسرے فریق یعنی حکومت کا اضافہ ہو جائے گا۔ یہ حکومت کون ہے؟ یہ وہی سرکاری لوگ ہیں جن سے ہم پچھلے ۳۵ سالوں میں خوب واقف ہو چکے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اندر رشوت لیے بغیر کوئی حرکت نہیں ہوتی۔ جن کو قومی کام سپرد کیا جائے تو وہ اس کام کو مکمل کرنے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ کس طرح اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی جیب بھر لیں۔ پھر جن سرکاری کارکنوں نے اس سے پہلے اختیارات کو صحیح طور پر استعمال کرنے میں زبردست نا اہلی کا ثبوت دیا ہے، وہی لوگ دوبارہ وسیع تراختیارات کے استعمال میں کس طرح اہل اور دیانت دار ثابت ہوں گے۔ سوشلٹ سماج یا منصوبہ بند معاشیات کو خواہ کتابوں میں کتنے ہی خوبصورت الفاظ میں بیان کیا جائے مگر عملی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader