Urdu book · ہندوستان آزادی کے بعد

ہندوستان آزادی کے بعد

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

کی، مگر پختہ اینٹوں کے بجائے کچی اینٹیں لگادی گئیں۔ اس طرح انجینیروں اور سرکاری افسروں نے اونچی تنخواہوں اور بڑے بڑے الاونسوں کے باوجود مزید منافع حاصل کرنے کے لیے ایک قومی منصوبے کو نا کام بنادیا اور جورقم نہر کی تعمیر کے لیے تھی اس کا بڑا حصہ بچا کر خود لے لیا۔ وہ سب سے بڑا مسئلہ جس نے آج کل ہر خاص و عام کو پریشان کر رکھا ہے، وہ مہنگائی کا مسئلہ ہے۔ پچھلے چند سالوں کے دوران میں چیزوں کی قیمتیں اتنی تیزی سے بڑھی ہیں کہ لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ وہ محدود آمدنی میں اپنی ضرورت کیسے پوری کریں۔ پہلے معاش کا مسئلہ زیادہ تر بے روزگاری کا مسئلہ تھا، مگر اس مہنگائی نے روزگار والوں اور بے روزگاروں کو ایک صف میں کھڑا کر دیا ہے۔ جونہیں کماتا اس کو یہ پریشانی ہے کہ کیا کھائے، اور جو کماتا ہے اس کو یہ پریشانی ہے کہ اتنے کم پیسے میں خرچ کیسے پورا کرے۔ اس مہنگائی کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہی ترقیاتی اسکیموں کی ناکامی ہے۔ حکومت عوامی ترقی کی ایک اسکیم بناتی ہے اور اس کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے تمام اشیاء اور ان کے استعمال کے ہر مرحلے پر بے حساب ٹیکس لگاتی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ بڑھی ہوئی قیمتیں دراصل بڑھائے ہوئے ٹیکس ہیں جو سارے ملک سے اس لیے لازمی طور پر وصول کیے جاتے ہیں تا کہ حکومت اپنی ترقیاتی اسکیموں کو مکمل کر سکے۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ عوام سے تو ان کے حصے سے کہیں زیادہ قیمت وصول کرلی جاتی ہے۔ مگر اس کے بدلے انہیں جو کچھ ملنا چاہیے اس کا چوتھائی حصہ بھی ان کو نہیں ملتا۔ اس کو ایک چھوٹی سی مثال کے ذریعہ یوں سمجھئے کہ ایک گاؤں میں آبپاشی کے انتظامات کے لیے لوگوں سے ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں۔ اگر اس سرمائے سے کنویں اور نہریں تعمیر کی جائیں اور آبپاشی کے سامان خرید کر کھیتوں کی بروقت اور مکمل سچائی کا باقاعدہ انتظام کر دیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پیداوار بہت تیزی سے بڑھ جائے گی اور لوگوں سے جتنا روپیہ بطور ٹیکس وصول کیا گیا تھا اس سے زیادہ انہیں واپس مل جائے گا۔ لیکن اگر وصول کرنے والے خود ہی وصول کیے ہوئے روپے کو کھا جائیں تو نتیجے میں صرف یہ ہوگا کہ بستی کے چند لوگ تو بہت خوشحال ہو جائیں گے اور عام لوگوں کی زندگی پہلے سے زیادہ مصیبت میں پڑ جائے گی۔ یہی حال زیادہ بڑے پیمانے پر ملک کی ترقیاتی اسکیموں کا ہے۔ اس مقصد کے لیے پبلک سے جو رقم وصول کی جاتی ہے اس کا بہت بڑا حصہ مختلف طریقوں سے درمیانی طبقہ ہڑپ کر لیتا ہے اور بہت تھوڑا حصہ منصوبے کی تکمیل کی صورت میں ہمیں واپس ملتا ہے اور وہ بھی ایسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page