Urdu book · ہندوستان آزادی کے بعد

ہندوستان آزادی کے بعد

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی میں اس کے معنی صرف یہ ہوتے ہیں کہ پبلک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر کام سے پہلے اس کے کرنے کے لیے سرکاری افسروں سے دستخط حاصل کریں۔ انگریزی حکومت کے زمانے میں پولیس کو یہ اختیارات تھا کہ وہ ’’امن عامہ‘‘ کے نام پر ہر ظلم کر سکتی ہے۔ اسی طرح سوشلسٹ ریاست میں سرکاری کارکنوں کو یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ ’’مفاد عامہ‘‘ کے نام پر پبلک کی ہر چیز چھین سکتے ہیں۔ یہ چیز عام لوگوں پر سرکاری آدمیوں کے اختیارات بہت بڑھادیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک ہولناک قسم کا قانونی نظام وجود میں آتا ہے جو اپنے بوجھ کے نیچے تمام لوگوں کو دبا دیتا ہے۔ منصوبہ بندی اپنے عمل کے لحاظ سے وسیع پیمانے پر ایک جبر اور منظم قسم کی قانونی لوٹ ہے۔ اگست 1959 ء میں وزیر غذا مسٹر اجیت پرشاد جین نے اپنے عہدے سے استعفا دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ ہمارے غلے کی سرکاری تجارت کی اسکیم کامیاب نہیں ہوئی ہے، کیوں کہ اس سلسلہ میں کنٹرول کی پالیسی اختیار کی گئی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’اگر غلے کی سرکاری تجارت کا اصول اختیار کرنا ہے تو اس کے لیے ہر سطح پر موثر کنٹرول کی ضرورت ہے۔‘‘ مگر موجودہ حالات میں کنٹرول کا فائدہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ’’نجی دکانداروں‘‘ کے بجائے ’’ڈیپو ہولڈروں‘‘ کا طبقہ وجود میں آئے اور لوٹنے والے نئے عنوان سے لوٹنا شروع کر دیں۔ ایک بگڑے ہوئے سماج میں سرکاری کنٹرول کے معنی اس کے سوا اور کچھ نہیں ہیں کہ رشتوں اور بدعنوانیوں میں بے پناہ اضافہ ہو جائے اور تقسیم دولت کا عدم توازن نمایاں سے نمایاں تر ہوتا چلا جائے۔ اب میں مختصر طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ اس صورت حال کے علاج کے لیے ہمیں کیا کرنا ہے۔ اس کے لیے ملک کے اندر تین قسم کی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے: (1) تبدیلیٔ فکر۔ (2) تبدیلیٔ قانون۔ (3) تبدیلیٔ قیادت۔ تبدیلیٔ فکر سے مراد یہ ہے کہ ہم اس تضاد کو ختم کریں جو ہمارے سماجی منصوبوں اور ہمارے تصور زندگی کے درمیان پایا جاتا ہے۔ ہم اپنے ملک میں ایسا سماج بنانا چاہتے ہیں جہاں تمام باشندے مشترک مقاصد کے لیے مشترک جدوجہد کریں، جس میں کوئی شخص دوسرے کا حق نہ مارے، جس میں آدمی اپنی ذات کے تقاضے پورے کرنے میں قوم کے تقاضے کو نظر انداز نہ کرے۔ ایسا ہی سماج ترقی یافتہ سماج کہا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی سماج میں امن و امان پایا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی سماج میں لوگ خوش حال رہ سکتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہمارے ملک میں زندگی کا جو نظریہ اختیار کیا گیا ہے وہ خالص مادہ پرستانہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ شخصی تمناؤں کی تکمیل کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page