Urdu book · ہندوستان آزادی کے بعد

ہندوستان آزادی کے بعد

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

جبکہ یہی دنیا ہے، اس دنیا میں جو شخص زیادہ حاصل کرلے وہ کامیاب ہے اور جو زیادہ حاصل نہ کر سکے وہ ناکام ہے۔ اس نظریے کے لازمی معنی یہ ہیں کہ ہر شخص اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مال واسباب سمیٹنا چاہے، آدمی کی تمناؤں اور اس کی خواہشوں کی کوئی حد نہیں، اس لیے اس کا سمیٹنے کا جذبہ بھی کہیں ختم نہیں ہوتا۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ہم قومی زندگی میں جو کچھ چاہتے ہیں، شخصی زندگی میں خود ہی اس کی نفی کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے لیڈر اپنے ملک میں جس قسم کی سماجی زندگی بنانے کا آئے دن اعلان کرتے رہتے ہیں، وہ فرداً فرداً یہاں کے باشندوں کو اس کے خلاف تربیت دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سماجی تعمیر میں ان افراد کو جہاں کہیں بھی استعمال کیا جاتا ہے وہ سماجی تعمیر کے بجائے اپنی ذات کی تعمیر میں لگ جاتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ایک شخص کو کسی سماجی کام پر مامور کیا جاتا ہے۔ مگر سماجی کام کے لیے اس کے اندر کوئی محرک نہیں ہوتا۔ اس کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں اپنی ذات کے لیے ساز و سامان حاصل کرے۔ کیوں کہ اسی کا نام اس کے نزدیک اصل کامیابی ہے۔ وہ کاغذ پر سماجی کام کی خانہ پُری کرتا رہتا ہے اور عملاً اپنی ذات کے فائدے حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے۔ اسی طرح کسی سماجی کارکن کو سماج کی خدمت کرنے کے لیے جو اختیار دیا جاتا ہے وہ اس کو اپنی لوٹ کھسوٹ کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس تضاد کو ختم کیا جائے اور ایسے نظریے کو زندگی کا نظریہ بنایا جائے جو مادہ پرستی کے بجائے بالا تر حقیقت کی پرستش سکھاتا ہو۔ جو ایسے نقطے پر تمام انسانوں کو جمع کر سکے، جہاں انسان باہم متصادم ہونے کے بجائے ایک دوسرے سے متحد ہوسکیں، جو شخصی جذبات کو اجتماعی مفاد سے ہم آہنگ کر دے۔ ہمارے لیڈروں کو خود بھی اس تضاد کا احساس ہے مگر وہ اس کا حل صرف یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو انصاف اور سچائی کی تلقین کرتے رہیں۔ حالانکہ ایسی ہر نصیحت صرف ضرورت کا احساس ہے، نہ کہ وہ ہماری ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ جب کوئی شخص سچائی کے راستے کو چھوڑ کر غلط راہ پر چلتا ہے تو وہ اس لیے ایسا کرتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس میں میرا دنیوی فائدہ ہے، جب وہ دیانتداری کے بجائے لوٹ کھسوٹ کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس کے تصور زندگی کے مطابق اسی میں اس کی کامیابی ہے، پھر وہ کسی کی تلقین اور نصیحت سے کیوں اپنے فائدے کو چھوڑ دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی ایسا نظریہ نہ اختیار نہ کیا جائے جو فائدہ اور نقصان کا ایک نیا تصور دیتا ہو۔ اس وقت تک صورت حال میں تبدیلی ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page