Urdu book · ہندوستان آزادی کے بعد

ہندوستان آزادی کے بعد

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ نظریہ صرف آخرت کا نظریہ ہے، جو خدا اور مذہب کو ماننے کے بعد لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ زمین پر اس وقت ہم جو زندگی گزار رہے ہیں، یہی آخری زندگی نہیں ہے بلکہ اس کے بعد ایک اور طویل زندگی ہے جو مرنے کے بعد سامنے آئے گی، جہاں کائنات کا مالک اپنے بندوں سے ان کے پورے کارنامہ زندگی کا حساب لے گا۔ موجودہ دنیا کو کوشش کرنے کی جگہ اور بعد کی دنیا کو کوششوں کا انجام پانے کی جگہ۔ یہ نظریہ آدمی کی نگاہ میں موجودہ دنیا کی نعمتوں کو بے حقیقت بنا دیتا ہے۔ وہ آج کی دنیا سے زیادہ کل کی دنیا کا حریص بن جاتا ہے۔ ہر شخص کو سب سے پہلے جس بات کی فکر ہوتی ہے وہ یہ کہ اپنے مستقبل کو بہتر بنائے۔ اب اگر یہ نظریہ ہو کہ یہی دنیا حال بھی ہے اور مستقبل بھی تو ظاہر ہے کہ آدمی کی اولین خواہش یہ ہوگی کہ وہ دنیا میں بہتر زندگی حاصل کرے، وہ تمام ممکن مواقع کو اس کے لیے استعمال کرنا شروع کر دے گا خواہ وہ جائز ہوں یا ناجائز۔ اس کے برعکس جب آدمی خدا پر ایمان لاتا ہے اور آخرت کا نظریہ اختیار کرتا ہے تو وہ عین اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے ضروری سمجھتا ہے کہ دنیا میں ناانصافی کرنے اور دوسرے کا حق مارنے سے بچے ۔ یہ نظریہ آدمی کو خدا سے ڈراتا ہے جو اس کی تمام کھلی اور چھپی حرکتوں کو دیکھ رہا ہے اور جس سے بھاگ کر وہ کہیں جا نہیں سکتا۔ اس طرح آدمی مجبور ہوتا ہے کہ اپنی آئندہ زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی موجودہ زندگی میں صحیح رویہ اختیار کرے اور اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔ اس طرح یہ نظریہ ان تمام رخنو ں کو پُر کر دیتا ہے، جو ہماری تمدنی سرگرمیوں میں پیدا کیا گیا ہے۔ یہ ہمارے شخصی رجحانات کو ہماری سماجی زندگی سے ہم آہنگ کر دیتا ہے۔ یہ اس نظریے کی ایسی خصوصیت ہے جو کسی بھی دوسرے نظریہ کو حاصل نہیں ہے۔ فرد کے جذبات اور اجتماعی فلاح کے درمیان جو تضاد پایا جاتا ہے اس کو صرف یہی ایک نظریہ ختم کرتا ہے۔ دوسرا کوئی نظریہ اب تک پیش نہیں کیا جا سکا جو اس مشکل کا جواب ہو۔ اصلاح کے سلسلے میں دوسرا قدم یہ ہے کہ قانون کو بدلا جائے۔ قانون انسانی زندگی کا رہنما ہے۔ قانون کسی سماج کی وہ سب سے طاقتور چیز ہے جو زندگی کی شکلوں کو متعین کرتا ہے، مگر اس قانون کا تعین نہایت مشکل کام ہے۔ اس کے لیے نفسیات کا حقیقی علم ہونا ضروری ہے، اس کے لیے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ ایک شخص کا کوئی عمل دوسرے شخص پر کیا اثر ڈالتا ہے، اس کے لیے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ خارجی دنیا سے ہمارے تعلق کی صحیح ترین نوعیت کیا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ معلوم ہو کہ کتنی باتوں کو قانون کے دائرہ میں لیا جائے اور کس کو اس سے الگ چھوڑ دیا جائے ۔ یہ باتیں انسان معلوم نہیں کر سکتا۔ اس لیے انسان اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page