ہندوستان آزادی کے بعد
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے قانون بھی نہیں بنا سکتا۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہو جائے گی۔ ۱۔ الہی شریعتوں نے جان مارنے کی سزا جان قرار دی ہے، اسی کے اثر سے یہ قانون ساری دنیا میں رائج ہو گیا اور قدیم ترین زمانے سے نسل انسانی اس کو تسلیم کرتی چلی آہی ہے۔ مگر اب کچھ دنوں سے جگہ جگہ اس کے خلاف رائے رکھنے والے لوگ پیدا ہو رہے ہیں۔ قاتل کو قتل کرنا انصاف کے خلاف سمجھا جانے لگا ہے اور اس کو ایک وحشیانہ فعل قرار دیا جاتا ہے، مگر جب بھی کسی ملک میں اس پر عمل کیا گیا تو تجربے نے ظاہر کر دیا کہ خدا کا مقرر کیا ہوا قانون ہی صحیح ترین قانون ہے۔ مثلاً لنکا کی اسمبلی نے ۱۹۵۶ء میں ایک قانون پاس کیا جس کے مطابق لنکا کی حدود میں موت کی سزا کو ختم کر دیا گیا۔ اس قانون کے بعد لنکا میں تیزی سے جرائم بڑھنا شروع ہو گئے۔ مگر کسی کو ہوش نہیں آیا، حتیٰ کہ اس قانون کے تیسرے سال ماہرین کا ایک کمیشن مقرر کیا گیا جس کا کام یہ تھا کہ وہ اس کے نتائج کی چھان بین کرے۔ کمیشن نے رپورٹ دی کہ پچھلے سالوں میں اس قانون کا جو تجربہ ہوا ہے وہ اطمینان بخش ہے اور اس کو بدلنے کی ضرورت معلوم نہیں ہوتی۔ مگر ۲۶ ستمبر ۱۹۵۹ء کو جب ایک شخص نے لنکا کے وزیراعظم مسٹر بندرانائیک کے مکان میں گھس کر نہایت بے دردی کے ساتھ ان کو قتل کر دیا تو لوگوں کی آنکھ کھلی اور وزیراعظم کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے فوراً بعد لنکا کی حکومت ۱۹۵۶ء کے ایکٹ کو منسوخ کرکے ملک میں سزائے موت کو دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ وزیر قانون کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں فوری طور پر ایک مسودہ تیار کرکے پارلیمنٹ میں پاس ہونے کے لیے پیش کریں۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان انسان کی نفسیات کو نہیں جانتا۔ ۲۔ الہی شریعتوں میں جس طرح چوری اور ڈکیتی جرم ہے، اسی طرح اس نے شراب پینے کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ بظاہر ان دونوں چیزوں میں کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا، مگر جب انسانی قانون سازوں نے ایک کو حرام اور دوسرے کو حلال کیا تو فوراً ظاہر کر دیا کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر جرائم کوروکنا ہے تو شراب کو بھی ختم کرنا پڑے گا اور اگر شراب نوشی کو باقی رکھا گیا تو جرائم کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ سری نگر میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جو لوگوں کی سائیکلیں چرایا کرتا تھا۔ وہ بازار میں جاتا اور جہاں کہیں سائیکلیں کھڑی دیکھتا اس پر سوار ہو کر تیزی سے روانہ ہو جاتا اور دور کہیں لے جا کر اسے بیچ دیتا۔ گرفتاری کے بعد اس سے پوچھا گیا کہ تم کو ایسا کرنے کی ہمت کس طرح ہوتی ہے، کیا تمہارا ضمیر تم کو ملامت نہیں کرتا کہ تم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader