Urdu book · ہندوستان آزادی کے بعد

ہندوستان آزادی کے بعد

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے کی چیز لے کر نہ بھاگو۔ کیا تم اس سے نہیں ڈرتے کہ پکڑے جاؤ گے تو تم کو سخت سزا بھگتنا پڑے گی۔ اس نے جواب دیا کہ میں بھی انسان ہوں اور مجھ پر بھی اس قسم کے احساسات طاری ہوتے ہیں ، مگر اس کا حل میں نے یہ نکالا ہے کہ جب مجھے ایسا کرنا ہوتا ہے تو میں شراب پی لیتا ہوں۔ شراب کا نشہ طاری ہونے کے بعد یہ دونوں احساسات دب جاتے ہیں۔ شراب مجھے ضمیر کی ملامت سے آزاد کر دیتی ہے اور اس ڈر کو بھی میرے دل سے نکال دیتی ہے کہ پکڑے لیے جاؤ گے تو تم کو سزا ملے گی۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان اشیاء کے باہمی تعلق کو نہیں جانتا۔ ۳- جن چیزوں کو انسان اپنی ملکیت کہتا ہے وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جو براہ راست ذاتی کوشش سے آدمی کو حاصل ہوئی ہو ، اور دوسرے جائداد کی آمدنی جس پر آدمی خود محنت نہیں کرتا بلکہ حق ملکیت کے طور پر وہ اسے حاصل ہوتی ہے۔ الہی شریعتوں نے ان دونوں قسموں کی آمدنیوں کو انسان کا جائز حق تسلیم کیا ہے اور دوسرے کے لیے اس پر دست درازی کرنا جرم قرار دیا ہے۔ مگر صنعتی انقلاب کے بعد یورپ میں کچھ سوشلسٹ مفکرین پیدا ہوئے جنہوں نے معاشی تجزیہ کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جائداد بنانا صرف سماج کا حق ہے۔ دوسرے لفظوں میں فرد کے لیے صرف پہلے قسم کی آمدنی جائز ہے۔ دوسرے قسم کی آمدنی اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق کسی شخص کی وہی آمدنی اس کی جائز ہے جو اس نے ذاتی طور پر محنت کر کے کمائی ہو۔ کسی جائداد سے حاصل شدہ آمدنی کو وہ اپنی ملکیت نہیں بنا سکتا۔ اس نظریے کو پچھلے سو برس میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور ساری دنیا میں اس کا چرچا کیا جانے لگا ہے۔ ہمارے ملک کے لیڈر بھی اس فلسفے سے متاثر ہیں۔ چنانچہ آزادی کے بعد ہندوستان میں آراضی کی اصلاح کے جو قوانین بنے ہیں ان میں یہ تصور شامل ہو گیا ہے۔ اسی ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ خاتمہ زمینداری کے قوانین میں اس قسم کی دفعات شامل کی گئیں ، جن کا مطلب یہ تھا کہ کھیت کا مالک وہ نہیں ہے جس نے خرید کر یا عطیہ اور وراثت کے ذریعہ اس کو حاصل کیا ہو ، بلکہ کھیت کا مالک وہ ہے جو کھیت کے اوپر ہل چلائے ،’’جو بوئے اس کا کھیت‘‘۔ یہ اس خیال کے لوگوں کا نعرہ ہے۔ مگر جب یہ قانون رائج کیا گیا تو آپ نے دیکھا کہ اس کا انجام کیا ہوا۔ ایک قسم کی جائداد سے انفرادی ملکیت ختم کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر قسم کی ملکیت کا احترام دلوں سے اٹھ گیا۔ ہر شخص اپنا یہ حق سمجھنے لگا کہ وہ جہاں کہیں موقع پائے دوسرے کی ملکیت پر قبضہ کر لے۔ ایک دوسرے کے کھیتوں پر قبضہ کرنے کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page