Urdu book · ہندوستان آزادی کے بعد

ہندوستان آزادی کے بعد

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے زبردست جھگڑے ہوئے، چوری اور ڈکیتی بالکل عام چیز بن گئی۔ بعض بعض مقامات پر تو یہ حال ہے کہ راستہ چلنا دشوار ہے۔ دن دہاڑے مسافروں کو روک کر ان کا سامان چھین لیا جاتا ہے۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان اس بات کو نہیں جانتا کہ خارجی دنیا سے ہمارے تعلق کی صحیح نوعیت کیا ہے۔ اوپر میں نے انسانی قانون سازی کی ناکامیوں کی جو مثالیں دی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ زندگی کا قانون متعین کرنے کے لیے جن معلومات کی ضرورت ہے وہ انسان کو حاصل نہیں ہیں اور ان معلومات کے بغیر قانون بنانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص سرجری اور علم الاعضاء کی تعلیم حاصل کیے بغیر انسانی جسم کی چیر پھاڑ شروع کر دے۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوشش صرف دشواریوں میں اضافہ کرے گی، وہ دشواریوں کا علاج نہیں بن سکتی۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ خدائی قانون کو تسلیم کیا جائے اور اسی کی روشنی میں تمام سماجی معاملات کا فیصلہ کیا جائے۔ انسان جب تک اس روشنی کو اپنا رہنما نہیں بنائے گا وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہے گا، وہ کبھی صحیح قانون تک نہیں پہنچ سکتا۔ تیسری چیز جو ہم ملکی حالات کی اصلاح کے لیے ضروری سمجھتے ہیں وہ قیادت کی تبدیلی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ملک کے اختیارات ان لوگوں کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں، جو ملک کو صحیح سمت میں لے جانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اصلاح کا ہر کام اگرچہ تبلیغ سے شروع ہوتا ہے مگر اپنی تکمیل کے لیے وہ لازمی طور پر طاقت چاہتا ہے۔ اگر مصلحین صرف زبانی تبلیغ پر اکتفا کریں اور سیاسی اختیارات کے استعمال کو دوسروں کے لیے چھوڑ دیں تو سماجی اصلاح کی کوشش ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ہمارے وہ سیاسی لیڈر بڑے ہی نادان تھے جنہوں نے یہ سمجھا تھا کہ ملک میں سیاسی تبدیلی آنے کا یہ نتیجہ ہوگا کہ یہاں کے سماجی حالات بھی بدل جائیں گے، اسی طرح وہ لوگ بھی نہایت نادان ہوں گے جو یہ سمجھیں کہ محض تبلیغ اور نصیحت سے کسی ملک کی اجتماعی زندگی میں کوئی انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ جس طرح فکری تبدیلی کے بغیر سیاسی تبدیلی بے معنی ہے۔ اسی طرح فکری تبدیلی کی کوشش بھی اس وقت تک کوئی بڑا نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی جب تک سیاسی طاقت بھی اس کی مددگار نہ ہو جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تبدیلیٔ فکری کی کوشش کبھی ان معنوں میں کامیاب نہیں ہوسکتی کہ سوسائٹی کے تمام لوگ اس کے ہمنوا بن جائیں۔ کوئی تحریک جب کسی جگہ تبدیلیٔ فکر کی مہم شروع کرتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ایک طرف سوسائٹی کے تمام لوگ یہ جان لیں کہ ان کے درمیان کون سی طاقت ابھر رہی ہے، تاکہ جب یہ نیا فکر برسر اقتدار آئے تو وہ لوگوں کے لیے اجنبی نہ ہو۔ دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page