Urdu book · ہندوستان آزادی کے بعد

ہندوستان آزادی کے بعد

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک قلیل مدت میں مسلسل کام کر کے سوسائٹی کے ان تمام لوگوں کو چھانٹ لیا جائے جو اس نئے فکر کو قبول کرنے کی نسبتاً زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں اور جن سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ جب اس نئے فکر کو غلبہ حاصل ہو تو اس کے مقصد اور مزاج کے مطابق نئے انتظام کو چلا سکیں ۔ جوں ہی یہ دونوں کام ایک حد تک انجام پا جاتے ہیں، تحریک براہ راست اقدام شروع کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیتی ہے۔ یہ قیادت کی تبدیلی اس فکری اور قانونی تبدیلی کا لازمی تقاضا اور اس کی تکمیل ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ کسی سماج کے اندر فکری اور قانونی تبدیلی اس ارادے کا اظہار ہے کہ وہ ایک دوسرے نظام کے تحت زندگی گزارنے کا خواہشمند ہے، اور سماج کے سیاسی ادارے یعنی حکومت، کی تبدیلی اس ارادے کو عملی شکل دینا ہے۔ جب ہم سماج کے فکر کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں تو گویا ہم سماج کے اندر ایک ارادہ ابھارتے ہیں اور جب ہم قیادت کو بدلنا چاہتے ہیں تو گویا ہم بدلے ہوئے ارادے کو خارجی دنیا میں لا رہے ہیں۔ قیادت کی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ تمام افراد کی اصلاح کے لیے ان کے اندر جس ذہنیت کا پیدا ہونا ضروری ہے وہی ذہن ان لوگوں کا بھی ہونا چاہیے جو سماج کے اعلیٰ ترین اختیارات پر فائز ہوتے ہیں۔ آخرت کا فکر رکھنے والے اور خدا کے قانون کو ماننے والے لوگ جب حکومت کا کاروبار سنبھالیں گے اسی وقت یہ ممکن ہے کہ لوٹ کھسوٹ نہ ہو، اور ایسے ہی لوگ ایسا کر سکتے ہیں کہ حقدار کو اس کا پورا پورا حق پہنچائیں۔ فکر آخرت سے بے پروا اور خدائی قانون سے آزاد قیادت کبھی بھی ملکی حالات کو درست نہیں کر سکتی۔ آج ہمارے ملک کا حال یہ ہے کہ جو شخص نیل گری کی چوٹیوں پر کھڑا ہو کر اعلان کرتا ہے کہ’’میں خدا سے نہیں ڈرتا‘‘، اسی کو حکومت میں سب سے بڑا عہدہ مل جاتا ہے، اور جو شخص پارلیمنٹ میں جا کر کہتا ہے کہ’’خدا کو ہمارے قانونی معاملات میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہے‘‘ اس کو قانون ساز مجلس کا صدر بنا دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس ملک کا اختیار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو اس ملک کا انجام وہی ہو سکتا ہے جو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے ضرورت ہے کہ زندگی کا نظریہ، ملکی قانون اور سیاسی اقتدار تینوں کو بدلا جائے۔ اگر ملک کے حالات کو بدلنا ہے تو ہمیں یہ تمام تبدیلیاں لانی ہوں گی اور اگر ہم یہ تبدیلیاں نہیں لاتے تو ہرگز ہمارے حالات بدل نہیں سکتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page