Urdu book · ہندوستان آزادی کے بعد

ہندوستان آزادی کے بعد

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

سے ہندوستان میں حالات کو درست کرنے کی مسلسل کوشش ہورہی ہے۔ بے شمار اصلاحی قوانین اور ضابطے بنائے گئے ہیں ۔ بہت سے نئے محکمے اور مختلف محکموں کے تحت نئے نئے شعبے قائم کئے گئے ہیں، ملکی آمدنی ملک کے مفاد کے مطابق صرف کرنے کے لئے خصوصی ماہرین کی مدد سے منصوبے تیار کئے گئے ہیں۔ سماجی مفاد کی خاطر کتنے لوگوں کی شخصی ملکیتیں چھین لی گئی ہیں اور عمومی مفاد کے لئے ذاتی مفاد کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اتر پردیش کی حکومت ۱۹۵۵ء میں پبلک مفاد کے کاموں پر ہر منٹ میں ۲۱۳، ۲ روپے خرچ کر رہی تھی، جو اس مد میں آزادی سے فوراً پہلے (۱۹۴۶-۴۷) خرچ کی جانے والی رقم سے چالیس فیصدی کے بقدر زیادہ ہے۔ اسی طرح ہندوستان کی تمام ریاستیں ہر سال بے شمار روپیہ خرچ کرتی ہیں۔ ایک طرف یہ ترقیاتی کوششیں ہیں جو سالہا سال سے مسلسل جاری ہیں۔ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ ہمارے مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہماری ترقیاتی اسکیموں نے ہم کو صرف مشکلات اور مصائب کا تحفہ دیا ہے۔ ہمارے ملک کا حال اس وقت ایک ایسی ٹنکی کا سا معلوم ہوتا ہے جس کا پیندا ٹوٹ گیا ہو، ظاہر ہے ایسی ٹنکی میں جو پانی بھرا جائے گا وہ بہہ کر باہر نکل جائے گا، اسی طرح ہماری زندگی میں ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے کہ اصلاح و ترقی کے سارے منصوبے بے کار ثابت ہو رہے ہیں، اور ہزار کوششوں کے بعد بھی اصل مقصود حاصل نہیں ہوتا۔ یہ خلا کیا ہے؟ اس کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھئے۔ ایک شخص کو’’ سماجی بہبود‘‘ کا افسر بنایا جاتا ہے۔ اس کی ڈیوٹی یہ مقرر ہوتی ہے کہ وہ سماج سے رابطہ قائم کرے ۔ حکومت کی طرف سے لوگوں کے لیے جو رعایات اور جو اعانتیں جاری ہوں ان کو مستحقین تک پہنچائے۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ عوام کے لیے جاری کی ہوئی رقموں کا بڑا حصہ خود اس افسر کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ قیمتی دوائیں جو غریبوں میں تقسیم کرنے کے لیے دی جاتی ہیں وہ زیادہ تر بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دی جاتی ہیں۔ اس کو کبھی اناج خریدنا نہیں پڑتا کیوں کہ قلّت کے علاقوں میں تقسیم کے لیے جو اناج حکومت کی طرف سے ملتا ہے وہ اس کے خاندان کی ضروریات سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کون سا خلا ہے جس کی وجہ سے ہماری تمام ترقیاتی کوششیں نا کام ثابت ہو رہی ہیں۔ وہ خلا یہ ہے کہ ہمارے تمام سرمائے کو وہ طبقہ اچک لیتا ہے جو ہمارے اور ان اسکیموں کے درمیان ہے۔ ہمارے پاس جو دولت اور جو قدرتی وسائل ہیں ہم ان کو عوام تک پہنچانا چاہتے ہیں، مگر ظاہر ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page