ہندوستان آزادی کے بعد
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ خود بخود عوام تک نہیں پہنچ جائیں گے بلکہ وہ درمیانی کارکن اور عہدیدار ہوں گے جو اس کو ملکی خزانے سے لے کر عوام تک پہنچائیں گے۔ اس لیے کسی اسکیم کا انجام تمام تر اس درمیانی طبقے کی کارکردگی پر منحصر ہے۔ ہمارے یہاں اس قسم کا جو درمیانی طبقہ ہے اس کی بدعنوانیاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ ہماری تمام اصلاحی کوششیں محض کاغذی کارروائی بن کر رہ گئی ہیں۔ کاغذی کی دنیا میں منصوبے بنتے ہیں، ان پر عمل درآمد ہوتا ہے، ان کے شاندار نتائج نکلتے ہیں۔ مگر عمل کی دنیا ان تمام چیزوں سے بے خبر رہتی ہے۔ ان کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ غلے کی نازک صورت حال کے پیش نظر ایک ریاست میں یہ قانون بنایا جاتا ہے کہ ریاست کا غلہ ریاست کے باہر نہ جانے پائے، مگر اگلے سال ریاستی اسمبلی کے اجلاس میں ایک ممبر اس الزام کی تحقیق کا مطالبہ کرتا ہے کہ فلاں وزیر نے بہت بڑی مقدار میں اناج ریاست کے باہر اسمگل کر کے لاکھوں روپیہ ناجائز طور پر کمایا ہے۔ دوسرا ممبر کھڑا ہو کر اس کی تائید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اور محترم وزیر پندرہ سال سے ساتھ رہ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے بیٹوں نے کولڈ اسٹوریج اور بڑے بڑے سینما گھروں کی تعمیر کے لیے اتنی کثیر دولت کہاں سے حاصل کی۔ ایسا ہر واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے اصلاحی قوانین نے صرف لوٹنے والوں کے لیے موقع فراہم کرنے کا کام کیا ہے۔ اس سے ان ہی لوگوں کو فائدہ پہنچا ہے جس کو ترقیاتی اسکیموں کے نفاذ پر مامور کیا گیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کو جن کے لیے دراصل اسکیم بنائی گئی تھی۔ حکومت اسکیم بنائے گی کہ آئندہ پانچ سالوں کے اندر ملیریا کو سارے ملک میں نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ اس کے لیے حکومت کی طرف سے ڈی ، ڈی ، ٹی ( جراثیم مارنے والی دوا ) کے کارخانے کھولے جائیں گے اور ملیریا کنٹرول کے محکمے کو حکم دیا جائے گا کہ تمام انسانی رہائش گاہوں اور مویشیوں کے رہنے کی جگہوں میں بڑی شدت کے ساتھ جراثیم کش دوائیں چھڑکی جائیں۔ اس اسکیم پر عمل درآمد کے لیے ایک بہت بڑا عملہ سارے ملک میں حرکت میں آ جائے گا، لیکن جب منصوبے کی مدت ختم ہوگی تو معلوم ہوگا کہ ''دارالسلطنت‘‘ کی سطح کے بعض شہروں میں جہاں اعلیٰ ترین شخصیات قیام پذیر ہیں اور جہاں دنیا بھر کے سیاح ملک کی ''ترقیات‘‘ دیکھنے کے لیے آتے رہتے ہیں، وہاں تو ضرور مچھروں کا خاتمہ ہو گیا ہے اور بقیہ سارے ملک میں اب بھی اسی طرح مچھر اور ملیریا کے جراثیم موجود ہیں، جیسے اس منصوبے کو شروع کرنے سے پہلے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader