Urdu book · ہندوستان آزادی کے بعد

ہندوستان آزادی کے بعد

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

کیوں کہ مخصوص مقامات کے سوا ہر جگہ ڈی، ڈی، ٹی کے بجائے’’سفید پانی‘‘ چھڑکایا گیا تھا، اور دواؤں کی بہت بڑی تعداد یا تو پبلک مارکیٹ میں چلی گئی یا دوسرے ملکوں میں لے جا کر ناجائز طور پر فروخت کر دی گئی۔ البتہ اس اسکیم پر عمل کرنے کے لیے پبلک سے جو کروڑوں روپے بطور ٹیکس وصول کیے گئے تھے اس کی وجہ سے غریب عوام کی جیبیں کچھ اور خالی ہو جائیں گی اور وہ اس قابل نہ رہیں گے کہ بیمار ہوں تو اپنا اور اپنے بچوں کا علاج کر سکیں۔ حکومت سارے ملک میں پل، سڑکیں، مدرسے، بجلی گھر اور مختلف قسم کے کارخانے بنانے کا فیصلہ کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے اربوں روپے کے ٹیکس عوام کے اوپر لاد دئے جاتے ہیں۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ ایک کروڑ روپے کی چیز جو عوام کے لیے بن تیار ہوتی ہے اس کے لیے قوم کے ۵۰ کروڑ اور ۱۰۰ کروڑ روپے خرچ ہوجاتے ہیں اور یہ مزید سرمایہ تھوڑے سے افسروں اور ٹھیکے داروں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ اور اتنی مہنگی قیمت پر جو چیز بن کر تیار ہوتی ہے اس کا بھی یہ حال ہوتا ہے کہ چند سال کے بعد ہی اخباروں میں یہ خبر شائع ہو جاتی ہے کہ فلاں دریائی بند میں شگاف پڑ گئے ہیں کیوں کہ اس کی تعمیر میں خراب مسالہ استعمال کیا گیا تھا اور فلاں کارخانے کی بھاری مشین کو جتنے دن چلنا چاہیے تھا اس کے مقابلے میں وہ صرف تہائی مدت تک چل سکے گی کیوں کہ اس کی مشین حاصل کرنے کے لیے ایک ایسی فرم سے معاملہ کیا گیا تھا جو ناقص مشیری سپلائی کرنے کے لیے بدنام ہے۔ فلاں لوہے اور فولاد کا کارخانہ جو ڈیڑھ ارب کی لاگت سے تیار کیا گیا تھا اس کی بنیاد کے ستون ناقص طور پر نصب کر دیے گئے ہیں اور اب انہیں اکھاڑ کر از سر نو بنانا پڑے گا۔ پبلک کی گاڑھی کمائی سے لاکھوں روپے وصول کر کے ایک سڑک بنائی جاتی ہے لیکن اس کے تیار ہونے کے چند مہینے بعد جب آپ اس پر سے گزرتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ رہی ہے کیوں کہ ٹھیکیداروں کو سڑک کی تعمیر پر روپیہ صرف کرنے سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ رقم کا بڑا حصہ بچایا جائے تا کہ انجینیروں، اور سیروں کو ان کا مقررہ حصہ ادا کیا جا سکے۔ ایک عظیم الشان نہر کی اسکیم بنتی ہے جس کے متعلق دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ملک کے سب سے بڑے حصے کو سیراب کرے گی۔ مگر جب وہ بن کر تیار ہوتی ہے اور کام کرنا شروع کرتی ہے تو حکومت کو شکایات موصول ہوتی ہیں کہ نہر میں پانی بہت کم آ رہا ہے۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اصل نقشہ کے مطابق نہر کو ایک سومیل تک پکی اینٹوں سے بننا تھا، کیوں کہ اس کا راستہ ایک بالو کے علاقے سے گزرتا تھا۔ اگر اس کی تہہ کو پختہ نہ کیا جاتا تو بالو سب پانی پی جاتاہے۔ یہ نہر بنائی تو گئی اینٹوں ہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page