سب سے بڑا مسئلہ
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
اور تھوڑی دیر میں شہر کو آگ اور دھوئیں سے بھر دیں گے ، لوگ فوراً پناہ گاہوں میں چلے جائیں “ تو یکایک ہر شخص قریب کی پناہ گاہ کے راستے پر چل پڑتا ہے اور دم بھر میں انتہائی آباد سڑکیں بالکل سنسان ہو جاتی ہیں۔ جو شخص ایسا کرے اس کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ احمق ہے یا اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ یہ دنیا کے چھوٹے خطرے کا معاملہ ہے ۔ دوسرا ایک اس سے بڑا اور اس سے زیادہ یقینی خطرہ ہے جس کے متعلق کائنات کے مالک کی طرف سے خبر دار کیا گیا ہے۔ خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعہ یہ اعلان کیا ہے کہ " لوگو میری عبادت کرو ، ایک دوسرے کے حقوق پورے کرو اور میری مرضی کے مطابق زندگی گزار و۔ جو ایسا نہیں کرے گا میں اس کو ایسی سخت سز ادوں گا جس کا وہ تصور نہیں کر سکتا یہ ایک مستقل عذاب ہو گا جس میں وہ ہمیشہ تڑپتا رہے گا اور کبھی اس سے نکل نہ سکے گا “ اس اعلان کو ہر کان نے سنا ہے اور ہر زبان کسی نہ کسی شکل میں اس کا اقرار کرتی ہے مگر لوگوں کا حال دیکھئے تو ایسا معلوم ہو گا کہ جیسے یہ کوئی بات ہی نہیں ہے۔ دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لیے لوگ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہیے ۔ زندگی کا قافلہ نہایت تیزی سے اس راستے پر بھاگایا جا رہا ہے جدھر جانے سے اس کو منع کیا گیا ہے۔ فوجی ہیڈ کوارٹر سے جو سائرن بجتا ہے اس پر عمل کرنے کے لیے فوراً لوگ دوڑ پڑتے ہیں اور مالک کائنات کی طرف سے جس خطرے کا اعلان کیا گیا ہے اس سے کسی کو پریشانی لاحق نہیں ہوتی ۔ لوگ اس کی پکار پر نہیں دوڑتے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ فوجی ہیڈ کوارٹر کا سائرن جس خطرے کا اعلان کرتا ہے اس کا تعلق آج کی دنیا سے ہے جس کو آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader