Urdu book · انسان اپنے آپ کو پہچان

سب سے بڑا مسئلہ

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

کے نتیجے کو فوراً محسوس کرلیتا ہے ۔ مگر خدا کی طرف سے جس خطرے کا اعلان کیا گیا ہے وہ مرنے کے بعد پیش آئے گا ۔ ہمارے اور اس کے درمیان موت کی دیوار حائل ہے ۔ وہ آج کی آنکھوں سے ہمیں نظر نہیں آتا ۔ ہم نہ اس کے ہوائی جہازوں کو دیکھتے ہیں نہ اس کے بموں کو اور نہ اس کی آگ اور دھوئیں کی بارش کو۔ اس لیے ہوائی حملے کے سائرن کا تو لوگ فوراً یقین کرلیتے ہیں مگر خدا نے جس عذاب کی خبر دی ہے اس کو سن کر ان کے اندر کوئی سراسیمگی پیدا نہیں ہوتی ۔ اس کے بارے میں وہ یقین پیدا نہیں ہوتا جو عمل کے لیے بے تاب کر دے ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہم کو صرف وہی دو آنکھیں نہیں دی ہیں جو پیشانی کے نیچے نظر آتی ہیں اور سامنے کی چیزوں کو دیکھ لیتی ہیں ۔ ہمارے پاس ایک اور آنکھ ہے جو زیادہ دور تک دیکھ سکتی ہے ۔ جو چھپی ہوئی حقیقتوں کو بھی دیکھتی ہے ۔ یہ آنکھ عقل کی آنکھ ہے۔ لوگوں کی بے یقینی کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنی اس دوسری آنکھ کو استعمال نہیں کرتے ۔ وہ سامنے جو کچھ دیکھتے ہیں سمجھتے ہیں کہ بس یہی حقیقت ہے ۔ حالانکہ اگر غور و فقر سے کام لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جو چیز ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اس سے زیادہ یقینی ہے وہ چیز جو ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں ہے ۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس کائنات میں وہ کون سی حقیقت ہے جس کو ہر شخص مانتا ہو تو اس کا ایک ہی جواب ہوگا ۔ یعنی موت ۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر بڑے چھوٹے کو تسلیم کرنی پڑتی ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ کسی بھی وقت اس کی موت آسکتی ہے مگر جب موت کا خیال آتا ہے تو عام طور پر لوگ صرف اتنا سوچتے ہیں کہ ”میرے مرنے کے بعد میرے بچوں کا کیا ہوگا“ مرنے سے پہلے تو وہ اپنی زندگی کے بارے میں بہت سوچتے ہیں مگر مرنے کے بعد انہیں صرف گھر اور بچوں کی فکر ہوتی ہے ۔ بچوں کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page