سب سے بڑا مسئلہ
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
مستقبل محفوظ کرنے کے لیے تو وہ ساری عمر لگا دیتے ہیں مگر جو مستقبل خود ان کے سامنے آنے والا ہے اس کی تعمیر کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتے ۔ گویا ان کے مرنے کے بعد صرف ان کے بچوں کا وجود باقی رہے گا ، خود ان کا کوئی وجود نہ ہو گا جس کے لیے انہیں تیاری کرنے کی ضرورت ہو ۔ اس انداز میں لوگوں کا سوچنا یہ بتاتا ہے کہ انہیں شاید اس کا احساس نہیں ہے کہ مرنے کے بعد بھی ایک زندگی ہے بلکہ اصل زندگی مرنے کے بعد ہی شروع ہوتی ہے ۔ اگر انہیں اس بات کا یقین ہوتا کہ مر کر جب وہ قبر میں دفن ہوتے ہیں تو در حقیقت وہ دفن نہیں ہوتے بلکہ ایک دوسری دنیا میں داخل کر دیئے جاتے ہیں ۔ تو وہ بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونے سے پہلے یہ سوچتے کہ " مرنے کے بعد میرا کیا انجام ہوگا ؟ " حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا بیشتر انسان خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ۔ اس یقین سے خالی ہو گیا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ختم نہیں ہو جاتا بلکہ نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔ ایک ایسی زندگی جو موجودہ زندگی سے زیادہ حقیقی ہے ، جو موجودہ زندگی سے زیادہ اہم ہے ۔ موت کے بعد آنے والی زندگی کے بارے میں شبہ دو وجہوں سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ ہر انسان مر کر مٹی میں مل جاتا ہے ۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسان مر کر ختم ہو گیا تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ دوبارہ کس طرح زندگی پائے گا ۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ موت کے بعد جو دنیا ہے وہ ہم کو نظر نہیں آتی ۔ آج کی دنیا کو تو ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے مگر اس کے بعد والی دنیا کو اب تک کسی نے نہیں دیکھا ۔ اس لیے ہم کو یقین نہیں آتا کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہو سکتی ہے ۔ آئیے ان دونوں سوالوں پر غور کریں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader