موت کے بعد زندگی
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کے بعد زندگی " جب میں مرکر مٹی ہو جاؤں گا تو کیا مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا "۔ اس سوال کو اس طرح متعین کرکے تو بہت کم لوگ سوچتے ہیں مگر ہر وہ شخص جو اس بات پر گہرا یقین نہیں رکھتا کہ مرنے کے بعد اسے ایک نئی زندگی سے سابقہ پیش آنے والا ہے ۔ اس کے ذہن میں ضرور یہ سوال رہا ہوا رہتا ہے ۔ جو شخص آج کی زندگی میں کل کی زندگی کے لیے فکرمند نہیں ہے وہ اس بات کا ثبوت پیش کر رہا ہے کہ وہ کل کی زندگی کے متعلق شبہ میں مبتلا ہے ۔ خواہ وہ باقاعدہ اس مسئلے پر سوچتا ہو یا نہ سوچتا ہو۔ لیکن اگر ہم سنجیدگی سے غور کریں تو نہایت آسانی سے اس کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ موت کے بعد پیش آنے والی حقیقتوں کو ہماری نگاہوں سے چھپا دیا ہے کیوں کہ وہ ہمارا امتحان لے رہا ہے ، مگر کائنات میں ایسی بے شمار نشانیاں پھیلادی گئی ہیں جن پر غور کر کے ہم تمام حقیقتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ کائنات ایک آئینہ ہے جس میں دوسری دنیا کا عکس نظر آتا ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم اپنی موجودہ شکل میں اول روز سے موجود نہیں ہیں ۔ انسان کی ابتدا ایک بے شکل حقیر مادے سے ہوتی ہے جو ماں کے پیٹ میں بڑھ کر انسانی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اور پھر باہر آکر مزید ترقی کرکے پورا انسان بن جاتا ہے ۔ ایک بے شعور اور حقیر مادہ جو اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ خالی آنکھ سے دیکھا نہیں جاسکتا اس کا بڑھ کر چھے فٹ لمبا انسان بن جانا ایک ایسا واقعہ ہے جو روزانہ اس دنیا میں پیش آتا ہے۔ پھر یہ سمجھنے میں آپ کو کیا دقت پیش آتی ہے کہ ہمارے جسم کے اجزا جو نہایت چھوٹے چھوٹے ذرات بن کر زمین میں منتشر ہو جائیں گے تو دوبارہ وہ پورے انسان کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader