Urdu book · انسان اپنے آپ کو پہچان

دوسری دنیا

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری دنیا اب اس سوال پر غور کیجیے کہ دوسری زندگی کیسی ہوگی۔ خدا کے رسول کہتے ہیں کہ وہاں جنت اور دوزخ ہے۔ ہر شخص جو مرتا ہے وہ ان دو میں سے کسی ایک کے اندر داخل کیا جاتا ہے۔ جو شخص آج کی دنیا میں خدا کا فرماں بردار ہوگا اور نیک عمل کرے گا اس کو جنت کی آرام گاہ میں جگہ ملے گی اور جو بدکردار اور خدا کا نافرمان ہوگا اس کو جہنم کی تکلیفوں میں ڈالا جائے گا۔ اس کو سمجھنے کے لیے اس حقیقت پر غور کیجیے کہ انسان جو کام بھی کرتا ہے اس کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایک واقعہ ہے جیسے کہ بہت سے واقعات ہوتے ہیں ۔ اور دوسرے یہ کہ وہ کسی خاص ارادے کے تحت کیا گیا ہے۔ پہلی حیثیت کو ہم واقعاتی کہہ سکتے ہیں اور دوسری کو اخلاقی۔ ایک مثال سے اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ اگر کسی درخت پر کوئی پتھر اٹکا ہوا ہو، آپ اس کے نیچے سے گزریں اور یکایک پتھر آپ کے اوپر گر پڑے اور آپ کا سر ٹوٹ جائے تو آپ درخت سے لڑائی نہیں کریں گے نہ اس پر خفا ہوں گے بلکہ خاموشی سے اپنا سر پکڑے ہوئے گھر چلے جائیں گے ۔ اس کے برعکس اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر آپ کے اوپر ایک پتھر کھینچ مارے جس سے آپ کا چہرہ زخمی ہو جائے تو آپ اس پر برس پڑتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کا سر توڑ ڈالیں جس طرح اس نے آپ کا سر توڑا ہے۔ درخت اور انسان میں یہ فرق کیوں ہے۔ کیوں آپ درخت سے بدلہ نہیں لیتے اور انسان سے بدلہ لینا چاہتے ہیں ، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ درخت اس احساس و شعور سے خالی ہے جو انسان کو حاصل ہے۔ درخت کا عمل صرف واقعاتی نوعیت رکھتا ہے۔ جب کہ انسان کا عمل واقعاتی اور اخلاقی دونوں ہے ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ انسان کے عمل کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی وجہ سے کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page