Urdu book · انسان اپنے آپ کو پہچان

دوسری دنیا

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

واقعہ دنیا میں ظاہر ہوا۔ دوسرے یہ کہ وہ عمل جائز تھا یا نا جائز - صحیح جذبے سے کیا گیا تھا یا غلط جذبے سے ۔ اس کو ہونا چاہیے تھا یا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ جہاں تک عمل کی پہلی حیثیت کا تعلق ہے اس کا پورا انجام اسی دنیا میں ظاہر ہو جاتا ہے ۔ مگر اس کی دوسری حیثیت کا انجام اس دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا ۔ اور کبھی ظاہر ہوتا ہے تو نہایت ناقص شکل میں ۔ جس شخص نے آپ کو پتھر مارا اس کے عمل کا یہ انجام تو فوراً ظاہر ہو گیا کہ آپ کا سر ٹوٹ گیا مگر اس کے عمل کا دوسرا پہلو کہ اس نے اپنی قوتوں کا غلط استعمال کیا اس کا انجام ظاہر ہونا ضروری نہیں ہے ۔ اس نے چاہا تھا کہ سر توڑے اور سر ٹوٹ گیا ۔ اس نے چاہا تھا کہ ایک غلط کام کرے مگر اس کے اس دوسرے ارادہ کا کوئی نتیجہ ہمارے سامنے نہیں آیا ۔ نتیجہ نام ہے انسانی ارادے کے خارجی ظہور کا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی ارادے کا ایک نتیجہ ۔ واقعاتی نتیجہ ۔ ہمیشہ ظاہر ہو جاتا ہے پھر انسانی ارادے کا دوسرا نتیجہ ۔ اخلاقی نتیجہ ۔ بھی ضرور ظاہر ہونا چاہیے ۔ آخرت انسانی عمل کے اسی دوسرے پہلو کا مکمل انجام ظاہر ہونے کی جگہ ہے ۔ جس طرح آدمی کے عمل کا ایک پہلو کچھ واقعات کو ظہور میں لاتا ہے ۔ اسی طرح اس کے عمل کا دوسرا پہلو کچھ دوسرے واقعات کو پیدا کرتا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلی قسم کے واقعات کو ہم اسی دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور دوسری قسم کے واقعات کو ہم مرنے کے بعد دیکھیں گے ۔ ہر آدمی جو دنیا میں زندگی گزار رہا ہے وہ اپنے عمل سے اپنے لیے کوئی نہ کوئی نتیجہ پیدا کرنے میں مصروف ہے ۔ وہ خواہ بیکار بیٹھا ہو یا کسی کام میں مشغول ہو ، اس کی ہر حالت اس کے موافق یا مخالف ایک رد عمل پیدا کرتی ہے ۔ اس کے عادات و اخلاق سے لوگ اس کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں ۔ وہ اپنی قوتوں کو جس طرح استعمال کرتا ہے اسی کے لحاظ سے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page