Urdu book · انسان اپنے آپ کو پہچان

دوسری دنیا

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

کے کام بنتے یا بگڑتے ہیں ، وہ اپنی کوششوں کو جس سمت میں لگاتا ہے اس سمت کی چیزوں پر اس کا حق قائم ہوتا ہے ۔ غرض ہر شخص اپنے گرد و پیش اپنی ایک دنیا کی تخلیق کر رہا ہے جو عین اس کے عمل کے مطابق ہے۔ یہ آدمی کے عمل کا ایک پہلو ہے جو موجودہ دنیا سے متعلق ہے ۔ اسی طرح اس کے کام کی دوسری حیثیت ۔ صحیح یا غلط ہونے کی حیثیت ۔ بھی اپنا ایک انجام پیدا کرتی ہے جو دوسری دنیا میں ذخیرہ ہو رہا ہے ۔ ہمارے عمل کا اخلاقی پہلو مستقل طور پر اپنے انجام کی تخلیق کر رہا ہے اور اسی کا نام مذہب کی اصطلاح میں جنت اور دوزخ ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص ہر آن اپنے لیے جنت یا دوزخ کی تعمیر کر رہا ہے ۔ چونکہ اس دنیا میں آدمی کو امتحان کی غرض سے ٹھہرایا گیا ہے ۔ اس لیے یہ جنت دوزخ اس کی نگاہوں سے اوجھل رکھی گئی ہے ۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی اور قیامت آئے گی تو ہر شخص اپنی تعمیر کی ہوئی دنیا میں پہونچا دیا جائے گا ۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے ۔ اگر ہمارے عمل کا کوئی اخلاقی انجام ہے تو وہ ہم کو نظر کیوں نہیں آتا ۔ مثلاً مکان بنانا ایک عمل ہے جس کا ایک انجام یہ ہے کہ مکان بن کر کھڑا ہو جائے ۔ یہ انجام ظاہر ہوتا ہے اور اس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں مگر اس عمل کا یہ پہلو کہ وہ جائز طریقے پر بنایا گیا ہے یا ناجائز طریقے پر ، یہ بھی اگر کوئی انجام پیدا کرتا ہے تو وہ کہاں ہے ۔ کیا ایسا بھی کوئی انجام ہو سکتا ہے جس کو دیکھا اور چھوا نہ جا سکتا ہو۔ اس کا جواب خود عمل کی ان دونوں حیثیتوں میں موجود ہے ۔ کسی عمل کی جو واقعاتی حیثیت ہے اس کو ہر شخص دیکھتا ہے حتیٰ کہ کیمیرے کی بے جان آنکھ بھی اس کو صاف طور پر دیکھ لیتی ہے ۔ مگر کسی عمل کی اخلاقی حیثیت نظر آنے والی چیز نہیں ہے ۔ وہ صرف محسوس ہوتی ہے دیکھی نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page