اسپرچولٹی اور اسپرچول ڈویلپمنٹ
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
روحانی عمل سے وہ اعلیٰ انسان پیدا نہیں ہو سکے جس عمل کا مقصود بتایا گیا تھا۔ جس چیز کو عام طور پر روحانی کامیابی سمجھا جاتا ہے وہ دراصل وجد (ecstasy) ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں روحانی کامیابی۔ اس نا کامیابی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کو روحانیت کا پوائنٹ آف ریفرنس ہی نہ مل سکا۔ سائنسی انقلاب سے پہلے انسان غلط طور پر یہ سمجھتا تھا کہ انسان کے فکر و احساس کا مرکز اس کا قلب ہے، اس لیے قدیم زمانے میں تمام روحانی عمل کا مرکز انسان کا قلب بنار ہا۔ مراقبہ اور میڈیٹیشن جیسی روحانی ورزشیں جو قدیم زمانے میں جاری ہوئیں وہ سب مبنی ہر قلب ورزشیں تھیں۔ مگر جیسا کہ آج ہم جانتے ہیں انسان کا دل صرف گردشِ خون کا ذریعہ ہے، وہ فکر و احساس کا مرکز نہیں۔ اس لیے انسان کی تمام روحانی ورزشیں بے فائدہ ورزشیں بن کر رہ گئیں، وہ انسان کے لیے تعمیر شخصیت کا ذریعہ نہ بن سکیں۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ مسلسل طور پر کسی چیز پر اپنی توجہ مرتکز کی جائے تو اس کے اندر ایک مجہول اہتزاز کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس کو وجد (ecstasy) کہا جاتا ہے۔ یہ گویا ایک قسم کی ذہنی تخدیر ہے۔ قلب پر مبنی روحانی ورزشوں کے دوران آدمی کے اندر اسی قسم کی وجد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے لوگوں نے بے خبری کی بنا پر اسی مجہول وجد کو روحانیت کا حاصل سمجھ لیا۔ حتیٰ کہ روحانیت اور وجد دونوں ایک دوسرے کے ہم معنی الفاظ بن گئے ۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ روحانیت کا علم وجد کی نچلی سطح پر رک کر رہ گیا، وہ فکری ارتقاء کے درجے تک نہ پہنچ سکا۔ قبل سائنسی دور میں انسان نے بہت سی چیزوں کے معاملے میں غلط تصورات قائم کر لیے تھے۔ سائنسی انقلاب کے بعد انسان چیزوں کے بارے میں زیادہ صحیح معلومات تک پہنچ سکا۔ اس کے بعد انسان نئے علمی دور میں جینے لگا۔ مثلاً قبل سائنس دور میں چاند کو روشن گرہ سمجھا جاتا تھا، مگر بعد سائنس دور میں جو معلومات حاصل ہوئیں ان کے بعد اب چاند کو ایک غیر روشن کرہ مانا جاتا ہے۔ یہی معاملہ قلب کا ہے۔ قبل سائنس دور میں قلب کو فکر و خیال کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ اس بنا پر ہر جگہ مبنی بر قلب روحانیت کا رواج ہو گیا۔ اب بعد سائنس دور میں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ انسان کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader