اسپرچولٹی اور اسپرچول ڈویلپمنٹ
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اندر منفی شخصیت کی تعمیر کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ آدمی کی پوری شخصیت ایک منفی شخصیت بن جاتی ہے۔ اس عمل کو کنڈیشنگ کا عمل کہا جا سکتا ہے۔ کنڈیشنگ کا یہ عمل ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی شخص کا کوئی استثناء نہیں۔ چنانچہ ہر آدمی کا کیس کنڈیشنگ کا کیس ہے۔ اسی کنڈیشنگ کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی کم و بیش فخر، کبر، نفرت، حسد اور انتقام جیسی نفسیات میں جیتا ہے۔ ہر آدمی کنڈیشنگ کا کیس بنا ہوا ہے۔ اس معاملے میں لوگوں کے درمیان ڈگری کا فرق ہو سکتا ہے مگر ان کے درمیان نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ انسان کی شخصیت کی تعمیر کا اصل مقصود یہی ہے کہ ہر عورت اور مرد اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشنگ کرے۔ وہ اپنی ایک ایک کمزوری کو ڈھونڈ کر اپنے اندر سے نکالے اور پھر اس پر عملِ تطہیر جاری کر کے اپنی منفی شخصیت کو مثبت شخصیت میں کنورٹ کرے ۔ مثلاً غصے کو معافی میں کنورٹ کرنا، نفرت کو محبت میں کنورٹ کرنا، لالچ کو بے غرضی میں کنورٹ کرنا، گھمنڈ کو تواضع میں کنورٹ کرنا، بے اعترافی کو اعتراف کرنا، تشدد کو نرمی میں کنورٹ کرنا، انانیت کو انکساری میں تبدیل کرنا، وغیرہ۔ روحانیت یا اسپرچوئلٹی دراصل اسی شعوری عمل تطہیر کا نام ہے۔ روحانیت گویا ڈی کنڈیشنگ کا ایک عمل ہے۔ روحانیت کا مقصد یہ ہے کہ اپنے اوپر خود تعمیری کا عمل جاری کر کے اپنی ڈی کنڈیشنگ کرنا، اپنے آپ کو ایک ایسا انسان بنانا جو کامل طور پر ہر قسم کی کنڈیشنگ سے پاک ہو، جو دوبارہ اسی حالت فطری پر قائم ہو جائے جس پر وہ اول دن اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ روحانیت کا یہی مقصد ہمیشہ سے لوگوں کے سامنے رہا ہے۔ جن لوگوں نے روحانیت کو اپنا مقصد بنایا، وہ ہمیشہ سے یہی کہتے رہے ہیں کہ ہمارا مقصد اپنی اصلاح ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپنی داخلی شخصیت کو اعلیٰ شخصیت بنائیں ۔ اپنے آپ کو برے احساسات سے اٹھا کر اچھے احساسات میں جینے والا بنائیں ۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ انسان کبھی بھی یہ روحانی مقصود حاصل نہ کر سکا۔ متصوفانہ قسم کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader