Urdu book · انسان کی منزل

اسپرچولٹی اور اسپرچول ڈویلپمنٹ

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

قلب صرف گردشِ خون کو جاری رکھنے کا ذریعہ ہے۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ روحانیت کے علم کو بدلا جائے۔ اب روحانیت کے علم کو از سرِ نو مدوّن کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے کہ روحانیت کے علم کو دماغ کے ساتھ جوڑا جائے۔ روحانی ترقی کو تفکیری عمل کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کیوں کہ روحانی ترقی کا سرچشمہ دماغی عمل ہے نہ کہ قلبی ورزش۔ اس مقصد کے لیے ہر عورت اور مرد کو مسلسل طور پر دو کام کرنا ہے۔ ایک یہ کہ اپنے حافظے کے خانے میں جو منفی آئٹم جمع ہو گیے ہیں ان کو دوبارہ نکال کر انھیں مثبت آئٹم میں تبدیل کرنا۔ یعنی وہی عمل جس کو بعض جانور جگالی کی صورت میں کرتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ ہر دن جو واقعات ہوتے ہیں ان کو فوراً ہی مثبت آئٹم میں ڈھالنا تا کہ زندہ شعور سے نکل کر جب وہ لاشعور یا حافظے کے خانے میں جائیں تو وہ وہاں منفی آئٹم کے طور پر ذخیرہ نہ ہوں بلکہ مثبت آئٹم کے طور پر ذخیرہ ہوں۔ مثال کے طور پر ایک مصنف ہے۔ آپ کے ذہن میں اس کی منفی تصویر بنی ہوئی ہے، آپ اس کو ایک گمراہ مصنف سمجھنے لگے ہیں۔ اب اس معاملے میں روحانی عمل یہ ہے کہ اس مصنف کے بارے میں جو منفی تصور آپ کے ذہن میں بن گیا ہے، اس کو جگالی کر کے اپنے ذہن سے نکالیں اور پھر اس کے بارے میں اپنے تصور کو دوبارہ بے لاگ طور پر جانچیں۔ اگر اس جائزے میں یہ معلوم ہو کہ مذکورہ مصنف کے بارے میں آپ کی منفی رائے صرف اس تعصب کی بنا پر بنی تھی کہ وہ مصنف آپ کی محبوب شخصیت پر تنقید کرتا تھا۔ اگر ایسا ہو تو آپ کے لیے اس معاملے میں روحانی عمل یہ ہوگا کہ آپ اس شخص کے بارے میں اپنے تصور کو مکمل طور پر بدلیں۔ اس کے کیس کو ایک علمی کیس سمجھیں نہ کہ گمراہی کا کیس۔ اس طرح ہر روحانی انسان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے اندر داخل ہونے والے ایک ایک خیال کو جانچے اور کامل غیر جانب داری کے ساتھ اپنے آپ پر تنقید کر کے اپنی رائے کو بدلے۔ اس معاملے میں آدمی کو اتنا زیادہ حساس ہونا چاہیے کہ اگر بالفرض اس کو دوسرا انسان بظاہر غلط نظر آتا ہے تب بھی وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page