Urdu book · انسان کی منزل

جنت کے دروازے پر

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاں تک انسان کا تعلق ہے، حجری تہذیب کے زمانے میں بھی انسان وہی تمام فطری اوصاف رکھتا تھا جو وہ آج رکھتا ہے۔ مثلاً بعد کی تحقیقات نے بتایا ہے کہ انسان کے برین میں ایک سومین بلین بلین پارٹیکل موجود ہیں۔ حجری دور کے انسان کے دماغ میں بھی اتنے ہی پارٹیکل موجود تھے۔ مگر تعلیم و تربیت کی کمی کی بنا پر انسان ابھی اس قابل نہیں بنا تھا کہ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے ان فطری امکانات کو استعمال کر سکے۔ ۲۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ زمانہ آیا جس کو زرعی دور کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ دور جس کو ہم نے زرعی تہذیب (Agricultural Civilization) کا نام دیا ہے۔ اس دور میں انسان نے مزید آگے بڑھ کر نیچر میں تصرف کا طریقہ دریافت کیا۔ اس دور میں آب پاشی، زراعت، مویشی کی پرورش، لوہے کا استعمال، پیسے دار گاڑی اور اس قسم کی دوسری چیزیں دریافت کیں۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر زندگی گزار سکے۔ ۳۔ اس کے بعد تیسرا دور وہ ہے جس کو صنعتی دور یا صنعتی تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہ تیسرا دور اُس وقت شروع ہوا جب کہ انسان نے حیوانی طاقت سے آگے بڑھ کر میکانیکل پاور کو دریافت کیا۔ اب انسان نے پانی کو اسٹیم پاور میں تبدیل کیا اور اسٹیم انجن بنائے ۔ اسی طرح انسان نے پٹرول کو دریافت کیا اور پٹرول سے چلنے والی مشینیں بنائیں۔ اسی طرح اُس نے کمیونیکیشن کے نئے ذرائع دریافت کیے جس نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنا دیا۔ صنعتی دور میں انسان نے میکانیکل پاور کو استعمال کر کے بہت سی چیزیں بنائیں ۔ مثلاً تیز رفتار سواری، تیز رفتار خبر رسانی، کاغذاور چھپائی کے طریقے، نئے اصولوں پر شہری تعمیر، تعلیم و ترقی کا نیا نقطہ نظر، وغیرہ۔ اس طرح حسن اور معنویت کی ایک نئی دنیا وجود میں آئی جس کو صنعتی تہذیب کہا جاتا ہے۔ تہذیب کا چوتھا دور وہ ہے جس کو الون ٹافلر نے سپر انڈسٹریل ایچ کا نام دیا ہے۔ الون ٹافلر کے بیان کے مطابق، سپر انڈسٹریل ایچ کی خاص صفت یہ ہوگی کہ وہاں مکمل طور پر آٹومیشن (automation) کا رواج ہوگا۔ یعنی الیکٹرانکس کا استعمال اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ بیش تر کام خود بخود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page