Urdu book · انسان کی منزل

جنت کے دروازے پر

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

ہونے لگیں گے ۔ عام حالات میں انسان کا چاہنا ہی اس مقصد کے لیے کافی ہو جائے گا کہ اس کی تمام ضرورتیں خود بخود معیاری طور پر پوری ہوتی رہیں ۔ آٹومیشن کا یہ نظام عین وہی چیز ہے جس کی پیشگی اطلاع جنت کے بارے میں دی گئی ہے ۔ قرآن میں جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے : ولکم فیہا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ما تدعـون (حم السجدہ ۳۱) یعنی تمہارے لیے جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے ۔ الون ٹافلر نے مستقبل کے اس دور کو سپر انڈسٹریل ایج کہا ہے ۔ وہ گویا جنتی کلچر کا دوسرا نام ہے۔ یہ گویا جنت کی پیشگی خبر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ سپر انڈسٹریل ایج مستقبل کے اُس معیاری دور کو علمی اعتبار سے قابلِ فہم بنا دیتا ہے جس کو اوپر کی تقسیم میں اسپرچول سوئیلائزیشن کا نام دیا گیا ہے ۔ بظاہر تہذیب کا یہ چوتھا دور زیرِ تعمیر ہے ۔ یہی چوتھا دور وہ دور ہے جس میں غالباً اُس معیاری دنیا کا ظہور ہوگا جس کو مذہبی اصطلاح میں جنت (paradise) کہا گیا ہے ۔ موجودہ تحویلی دور (Transitional Period) گویا وہ حالت ہے جس کو زیرِ تعمیر جنت (Paradise in the making) کہا جا سکتا ہے ۔ جنت گویا تہذیبی سفر کے آخری دور کا نام ہے ۔ خدائی اہتمام کے تحت بننے والی یہ دنیا یقیناً اپنے وقت پر بنے گی ۔ یہ دنیا ایک معیاری دنیا ہوگی ۔ اس دنیا میں ہر قسم کی محدودیت (limitation) اور ڈس ایڈوانٹیج (disadvantage) کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ یہاں نہ خوف ہوگا اور نہ حُزن ۔ یہاں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف ۔ جنت کی یہ دنیا انسان کے اُن خوابوں کی تعبیر ہوگی جن کو وہ پہلے دن سے دیکھتا رہا ہے ۔ اِس کے ساتھ انسان کی ہستی میں نئی ترقیاں ظہور میں آئیں گی ۔ یہ انسان کا نقطۂ عروج ہوگا ، جہاں پہنچ کر انسان ایک کامل انسان بن جائے گا ۔ اس کو وہ ابدی زندگی مل جائے گی جو بڑھاپا ، حادثہ ، بیماری اور موت سے خالی ہوگی ۔ یہ وہ معیاری دنیا ہوگی جہاں انسان اس پوزیشن میں ہوگا کہ وہ اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page